خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد سوم 315 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء ہیں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں چھ سات سو کلو میٹر کا سفر بعض دفعہ آٹھ دس دن میں طے ہوتا ہے۔ہم اس علاقہ کے ایک نسبتاً بڑے قصبے میں جہاں چھوٹا سا ائر پورٹ ہے، چھوٹے جہاز کے ذریعہ سے گئے تھے تو وہاں لوگ اردگرد سے بھی ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان میں جوش قابل دید تھا۔بہت جگہوں پر وہاں ایم ٹی اے کی سہولت بھی نہیں ہے۔اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ایم ٹی اے دیکھ کر اور تصویریں دیکھ کر یہ تعلق پیدا ہو گیا تھا۔یہ جوش بتا تا تھا کہ خلافت سے ان نیک عمل کرنے والوں کو ایک خاص پیار اور تعلق ہے۔جن سے مصافحے ہوئے ان کے جذبات کو بیان کرنا بھی میرے لئے مشکل ہے۔ایک مثال دیتا ہوں۔مصافحے کے لئے لوگ لائن میں تھے ایک شخص نے ہاتھ بڑھایا اور ساتھ ہی جذبات سے مغلوب ہوکر رونا شروع کر دیا۔کیا یہ تعلق، یہ محبت کا اظہار، ملوک یا بادشاہوں کے ساتھ ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے دلوں میں پیدا کیا جاتا ہے۔ایک صاحب پرانے احمدی جو فالج کی وجہ سے بہت بیمار تھے ،ضد کر کے 40-50 کلومیٹر یا میل کا فاصلہ طے کر کے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔اور فالج سے ان کے ہاتھ مڑ گئے تھے ، ان مڑے ہوئے ہاتھوں سے اس مضبوطی سے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا کہ مجھے لگا کہ جس طرح شکنجے میں ہاتھ آ گیا ہے۔کیا اتنا تردد کوئی دنیا داری کے لئے کرتا ہے۔غرض کہ جذبات کی مختلف کیفیات تھیں۔یہی حال کینیا کے دور دراز کے علاقوں کے احمدیوں میں تھا اور یہی جذبات یوگنڈا کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے احمدیوں کے تھے۔جور پورٹس شائع ہوں گی ان کو پڑھ لیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ خلافت کے لئے لوگوں میں کس قد را خلاص ہے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی نیک عمل اور اخلاص جماعت احمدیہ میں ہمیشہ استحکام اور قیام خلافت کا باعث بنتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: یا در ہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو اس امت میں خلافت دائگی کی بشارت دیتی ہیں۔اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں۔لیکن بالفعل اس قدر لکھنا اُن لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمی سمجھ کر قبول کر