خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 316
خطبات مسرور جلد سوم 316 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جاوے“۔(شهادة القرآن - روحانی خزائن جلد 6 صفحه 355) پس اس کے بعد کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ ہم ان بحثوں میں پڑیں کہ خلافت کب تک رہنی ہے اور کب ملوکیت میں بدل جاتی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ نیک اعمال کرنے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور خلافت کا سلسلہ ہمیشہ چلتا چلا جائے گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بداندیشی نہیں کہ اسلام کو مردہ مذہب خیال کیا جاوے اور برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جائے۔شروع سالوں تک جو اسلام کے ابتدائی سال تھے ان تک محدود رکھا جائے۔اسی طرح یہ بھی بداندیشی ہے کہ یہ کہا جائے کہ پہلی چار خلافتوں کے مقابل پر چار خلافتیں آگئیں اور بس۔اللہ تعالیٰ میں صرف اتنی قدرت تھی کہ پہلی خلافت راشدہ کے عرصہ کو تقریباً تین گنا کر کے خلافت کے انعام سے نوازے اور اس کے بعد اس کی طاقتیں ختم ہوگئیں۔إِنَّا لِلہ۔اور جیسا کہ میں حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے دکھا آیا ہوں کہ اگر کسی کی ایسی سوچ ہے تو غلط ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے ہاں تم میں سے ہر ایک اپنے عملوں کی فکر کرے۔اب میں مختصرا ان صاحب کی طرف آتا ہوں جنہوں نے بڑی ہوشیاری سے مضمون پھیلا کر بعض لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنی طرف سے ایسے لوگوں کو آلۂ کار بنانے کی کوشش کی ہے جو شاید اس سوچ میں پڑ جائیں لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے سچی وفا اور محبت رکھنے والی ہے اور وہ جن کو یہ مضمون بھجوائے گئے ہیں انہوں نے نظام کو یا مجھے اس سے آگاہ کر دیا ہمیں بھجوا دیئے۔شیطان نے ایک چال چلی تھی لیکن وہ نا کام ہو گیا۔لیکن جماعت کو بتانا میرا فرض ہے کہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔ان صاحب نے حضر میاں بشیر احمد صاحب کی اس بات کو انڈر لائن کیا ہے کہ کسی نبی کے بعد خلافت متصلہ کا سلسلہ دائمی طور پر نہیں چلتا بلکہ صرف اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ نبوت کے کام کی تکمیل کے