خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 240

خطبات مسرور جلد سوم 240 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005 ء جاتا ہے اور غربت کے باعث کبھی تو اس کے پاس پہننے کو صرف جبہ ہی ہوتا ہے جس سے وہ لباس کا بھی اور جبہ کا بھی کام لیتا ہے۔اور کبھی اسے جوؤں سے آزمایا جاتا ہے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اسے قتل ہی کر دیتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی کسی چیز کو پانے سے خوش ہوتا ہے۔(الأدب المفرد للبخارى -باب هل يكون قول المريض ” انى وجع“ شكاية) تو یہ ہے آپ کا اسوہ کہ بیماری پر صبر اور اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا۔انبیاء تو پاک ہوتے ہیں اور آپ تو سب سے بڑھ کر پاک تھے۔آپ نے تو فرمایا کہ میرا تو شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔تو انبیاء کو جو بیماری ہو ، بخار ہو وہ گناہوں سے پاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ صبر ورضا کا ایک نمونہ دکھانے کے لئے ہوتی ہے تا کہ ماننے والوں کو بھی پتہ لگے کہ یہ صرف نصیحتیں کرنے والے نہیں بلکہ خود بھی ان پر عمل کرنے والے اور اسی صبر و رضا کے پیکر ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے آپ کے صحابہ بھی بیماریوں میں دعاؤں پر زور دیا کرتے تھے اور یہی طریق آگے پھیلاتے تھے۔عبدالعزیز روایت کرتے ہیں کہ میں اور ثابت ، انس بن مالک رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ثابت نے کہا اے ابوحمزہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں۔اس پر انس نے کہا کیا میں آپ پر وہ دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کو کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کیوں نہیں۔پھر حضرت انس نے ان الفاظ میں دم کیا۔اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي - لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ - شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا (بخارى - كتاب الطب- باب رقية النبي (ﷺ) کہ اے اللہ ! جولوگوں کا رب ہے، تکلیف کو دور کرنے والا ہے۔شفا عطا کر دے کیونکہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔اس کو ایسی شفا عطا کر کہ بیماری کا کچھ بھی اثر باقی نہر ہے۔تو مریض کو خود بھی اپنی بیماری کے لئے دعا کرنی چاہئے بجائے اس کے کہ اپنی بیماری کو کو سنے دے۔اور دوسرے بھی جو عیادت کے لئے جائیں ان کو اس کے لئے دعا کرنی چاہئے اور