خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 219
خطبات مسرور جلد سوم 219 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء سنا کر جانے لگا تو اس نے آپ سے ایک تحریر لی کہ جب آپ کو سارے عرب پر غلبہ عطا ہوگا تو میرا بھی خیال رکھیں۔اور پھر وہ اپنی امان کا پروانہ لے کر واپس مڑا کہ میرا خیال رکھا جائے گا۔اس پر آپ نے سراقہ کو یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ تیرا کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تجھے پہنائے جائیں گے۔سراقہ اس بات پر بڑا حیران ہوا۔چنانچہ یہ بات بھی حضرت عمرؓ کے زمانے میں پوری ہوئی۔(تلخیص از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه 241-242 ) پھر دیکھیں کفار نے آپ کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آپ پر جنگ ٹھونسی۔تو آپ معمولی تعداد صحابہ کے ساتھ جو پوری طرح ہتھیاروں سے بھی لیس نہ تھے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنے سے بڑی اور تعداد کے لحاظ سے بھی اور تجربے کے لحاظ سے بھی اور ہتھیاروں کے لحاظ سے بھی ، جو اچھی طرح لیس فوج تھی اس کے مقابلے پر نکل کھڑے ہوئے۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں آتا ہے کہ جنگ بدر کے روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی صف بندی کرنے اور انہیں تفصیلی ہدایت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگ گئے اور یہ دعا کی کہ اللهُم اِن تَهْلِك هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ کہ اے اللہ ! یہ مسلمانوں کی جماعت اگر تو نے آج ہلاک کر دی تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔(مسلم كتاب الجهاد والسير - باب الأمداد بالملئكة في غزوة بدر) آپ ہاتھ پھیلائے مسلسل نہایت درد کے ساتھ یہ دعا کر رہے تھے۔راوی کہتے ہیں یہاں تک کہ جس شدت سے، تڑپ سے دعا ہو رہی تھی اس سے آپ کا جسم ہلتا تھا تو چادر آپ کے کندھوں سے گر جاتی تھی۔حضرت ابو بکر آگے بڑھے، آپ کی چادر آپ کے کندھے پر ڈالی اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ! بس کریں ، آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی ہے۔اللہ ضرور آپ سے کئے ہوئے وعدے پورے کرے گا۔یہ دعا، یہ گریہ وزاری ، یہ آہ و بکا اس لئے نہیں تھی کہ آپ کو کوئی خوف تھا کہ پتہ نہیں خدا تعالی مدد کرتا ہے یا نہیں کرتا۔اگر ایسی کیفیت ہوتی تو تھوڑے سے اور معمولی ہتھیاروں کے ساتھ صحابہ کو لے کر جنگ کے لئے باہر نہ نکلتے۔یہ دعا جو تھی یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب