خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 220
خطبات مسرور جلد سوم 220 خطبہ جمعہ 8 اپریل 2005 ء کرنے کے لئے تھی اور یہ ضروری چیز ہے۔اس لئے صف بندی کرنے کے بعد ان سب کو سمجھا کر کہ جنگ کے طریقے کیا ہوں، کس طرح جنگ کی جائے گی ، کہاں کہاں کس نے کھڑے ہونا ہے۔پھر آپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگتے ہیں کہ جو ظاہری سامان اور تد بیر تھی ، جو اسباب ہمیں میسر تھے وہ تو ہم نے کر دیئے ہیں اور یہ سب کچھ تجھ پر تو کل کرتے ہوئے کیا ہے۔اس لئے اے خدا! اب اپنے وعدے کو بھی پورا کرنا۔آج ان صحابہ کے ایمانوں میں اضافے اور اپنے تو گل میں زیادتی کے لئے اپنی مدد کے ایسے نظارے دکھا جو ان کو ہمیشہ یادر ہیں۔جو بعد میں آنے والوں کو بھی یا در ہیں۔جہاں تک آپ کے اپنے ذاتی یقین کا تعلق تھا وہ تو اس قدر تھا کہ آپ نے جنگ سے پہلے ہی یہ بتادیا تھا کہ دشمن کا فلاں شخص کہاں گرے گا اور فلاں شخص کس طرح مرے گا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جنگ بدر کے دن جنگ سے قبل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کی بعض جگہوں پر اپنے ہاتھ سے نشان لگائے اور فرمایا یہاں فلاں آدمی ہلاک ہو گا اور اس کے گرنے کی جگہ یہ ہے اور یہ فلاں دشمن کے ہلاک ہونے اور گرنے کی جگہ ہے۔اور حضرت سعد بن عبادہ کہتے ہیں کہ جہاں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشان لگایا تھا اس سے ذرا بھی فرق نہ ہوا اور ہر ایک کا فراسی جگہ ہلاک ہو کر گرا۔(مسلم) - كتاب الجهاد والسير -باب غزوة بدر ) پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اور توکل کی ایک اور مثال۔حضرت جابر“ بیان کرتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم پر گئے۔جب حضور علے صحابہ کے ساتھ واپس آ رہے تھے تو دو پہر کا وقت ہوا اور قافلہ ایک وادی میں پہنچا جہاں بہت سے درختوں کے جھنڈ تھے۔تو آپ نے بھی وہاں پڑاؤ ڈالا۔اور مختلف لوگ مختلف جگہوں پر بکھر گئے۔سائے میں بیٹھ گئے یا لیٹ گئے آرام کرنے لگے۔آپ نے بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔( یہ عام واقعہ ہے اکثر نے سنا ہو گا ) تھوڑی دیر بعد آپ کو کسی دیہاتی نے جگایا۔ایک دیہاتی آپ کے پاس کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔آپ نے صحابہ کو آواز دے کر یہ سارا واقعہ سنایا کہ دیکھو میں سویا ہوا تھا یہ دیہاتی آیا اور اس نے مجھے جگا کر