خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 15
خطبات مسرور جلد سوم 15 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء ساتھ گزارہ کرتے تھے ( نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔اور ) بوجہ معذور ہونے کے کوئی کام بھی نہ کر سکتے تھے۔حضرت اقدس کا ایک خادم قدیم سمجھ کر بعض لوگ محبت و اخلاص کے ساتھ کچھ سلوک ان سے کرتے تھے (ان کو کچھ رقم پیش کر دیا کرتے تھے ) لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپیہ کو جو اس طرح ملتا تھا کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے بلکہ اس کو سلسلہ کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیتے۔اور کبھی کوئی تحریک سلسلے کی ایسی نہ ہوتی جس میں وہ شریک نہ ہوتے ، خواہ ایک پیسہ ہی دیں۔حافظ صاحب کی ذاتی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ان کی یہ قربانی معمولی نہ ہوتی تھی۔“ (اصحاب احمد جلد 13 صفحه 293 مطبوعه 1967ء) تو یہ ان لوگوں کے چند نمونے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو سنا، سمجھا اور عمل کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مالی قربانی کے سلسلہ میں ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: ” میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے۔اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سوئیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقتدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے۔اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعے سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحه 516) پس آپ کا یہ سچا جوش اور کچی تڑپ ہے اور اس کے لئے آپ کی دعائیں ہیں جو آج سو