خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد سوم 204 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء کہے جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔اور یہ سب کچھ شکر گزاری کے جذبات کی وجہ سے تھا کہ اس شخص نے دوستی کا حق نبھایا ہے اور قربانیوں میں پیش پیش رہے ہیں اس لئے یہ برداشت رض نہیں تھا کہ ان کو کوئی تکلیف پہنچے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی کا حضرت ابوبکر صدیق ” سے اختلاف ہو گیا۔حضور کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا جب اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تو تم سب نے مجھے جھوٹا کہا اور ابوبکر نے میری سچائی کی گواہی دی اور اپنی جان اور مال سے میری مدد کی۔کیا تم میرے ساتھی کی دل آزاری سے باز نہیں رہ سکتے۔پھر ایک دفعہ اپنی وفات کے قریب فرمایا کہ لوگوں میں سے ہمہ وقت موجودگی اور مال کے ساتھ مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر نے کیا ہے۔فرمایا مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبى - باب قول النبى سدوا الابواب الا باب ابى بكر ) پھر حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بڑے اچھے انداز اور تعریفی انداز میں ذکر فرمایا کرتے تھے۔ایک روز میں نے اس بات سے غیرت کھاتے ہوئے کہا کہ آپ کیا ہر وقت اس بڑھیا کا ذکر کرتے رہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیویاں عطا کیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو انہوں نے مجھے قبول کیا۔جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو وہ ایمان لائیں۔جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ نے انہیں سے مجھے اولاد بھی عطا فرمائی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 118،117 مطبوعه بيروت) بیوی کا جو تعلق تھا وہ تو تھا ہی لیکن وہ ایسی وفا شعار بیوی تھیں جنہوں نے سب کچھ آپ پر قربان کر دیا تھا اور آپ جو سب سے زیادہ شکر گزار انسان تھے، یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اس احسان کو بھولیں جو اس وقت حضرت خدیجہ نے کیا تھا۔پھر تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے 13 ویں سال میں، حضور کی ہجرت سے قبل مدینہ سے ستر لوگوں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ جب حضور مدینہ