خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد سوم 155 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء کی وجہ سے نجات نہ پائے گا)۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی اپنے اعمال کی وجہ سے نجات نہیں پاؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے گا۔( یعنی اس کی رحمت کے نتیجہ میں مجھے نجات ملے گی )۔پس تم سیدھے رہو اور ( شریعت کے قریب رہو اور صبح و شام اور رات کے اوقات میں (عبادت کے لئے ) نکلو اور میانہ روی اختیار کرو اور میانہ روی اختیار کرو تو تم اپنی مراد کو پہنچ جاؤ گے“۔(بخاری کتاب الرقاق -باب القصد والمداومة على العمل) دیکھیں جس نبی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اس نبی کی بیعت بھی خدا تعالیٰ کی بیعت ہے۔وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے سے وہ کام ہو ہی نہیں سکتے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہوں بلکہ اپنی بشریت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ مجھے بھی اپنے اعمال کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا بلکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کی وجہ سے ملے گا۔ایک اور موقع پر اپنے عزیزوں کو اور اپنی بیٹی فاطمہ کو کہا کہ تم لوگ یہ نہ سمجھنا کہ میرے ساتھ تعلق ، میرے ساتھ پیار یا محبت یا میرا تم سے پیار یا محبت تمہیں بخش دے گا، تمہاری بخشش کے سامان پیدا کر دے گا۔فرمایا کہ بلکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کرو۔یہ کبھی نہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ تم سے اس لئے درگزر فرمائے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو ( فاطمہ کو فرمایا تھا)۔باوجود اس کے کہ آپ کو شفاعت کا حق دیا گیا تھا۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے فاطمہ ! میری لاڈلی بیٹی تیرے تھوڑے عمل بھی ہوں گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور تیری شفاعت کروں گا تو بخش دی جائے گی۔فرمایا میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔پس اس کا فضل اور رحم ہر وقت مانگنے کی کوشش کرو۔کیونکہ مجھے بھی اس کے رحم کی چادر نے ہی لپیٹنا ہے۔پھر دیکھیں عاجزی کا وہ نظارہ جہاں اگر کوئی اور ہو تو فخر سے سر اونچا ہو اور چہرے سے رعونت ٹپکتی ہو، تکبر ہو۔فتح حاصل کر لینے کے بعد دشمن کے بچوں اور بوڑھوں کو بھی چیونٹیوں کی طرح کچل دیا جاتا ہے لیکن جس شان اور طاقت سے آپ نے مکہ فتح کیا اس وقت آپ کے دل