خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 135
خطبات مسرور جلد سوم 135 خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء عرض کی یا رسول اللہ ! آپ میں بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سورۃ ھود، سورۃ واقعہ، سورۃ مرسلات اور عَمَّ يَتَسَاءَلُوْنَ اور وَإِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ ، سورہ تکویر وغیرہ نے بوڑھا کر دیا ہے۔( ترمذى ، كتاب تفسير القرآن ، باب ومن سورة الواقعة حديث نمبر 3297) سورۃ ھود میں ان قوموں کا ذکر بھی ہے جو انبیاء کے انکار کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں اور آپ جو رحمتہ للعالمین تھے، آپ کا دل اس بات سے بے چین ہو جایا کرتا تھا کہ اب بھی کہیں انکار کی وجہ سے قوم پر عذاب نہ آ جائے۔پہلے انبیاء تو صرف اپنی اپنی قوموں کے لئے ہوتے تھے، آپ تو کل دنیا کے لئے نبی تھے۔پس آپ کو اس زمانے میں اپنی موجودہ قوم کی بھی فکر تھی اور جو آئندہ آنے والی نسلیں ہیں اور دنیا کی تمام قومیں ہیں ان کی بھی فکر تھی ، یہ لوگ عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں۔اور پھر اس وجہ سے آپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ، گڑ گڑاتے تھے، رحم مانگتے تھے۔اور پھر اس سورۃ کی اس آیت نے بھی آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِير (هود: 113) کہ جیسے تجھے حکم دیا جاتا ہے اس پر مضبوطی سے قائم ہو جا اور وہ بھی قائم ہو جائیں جنہوں نے تیرے ساتھ تو بہ کی ہے۔اور حد سے نہ بڑھو یقینا وہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری 280 نظر رکھنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : "رسول اللہ ﷺ کو دیکھو کہ صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْ۔۔۔( هود :113) نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساس موت ہے آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی ؟ صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقرر فر مایا۔مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 34 جدید ایڈیشن)