خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 134
خطبات مسرور جلد سوم 134 وسلم رات کو کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ آواز سے تلاوت کرتے تھے۔خطبہ جمعہ 4 / مارچ 2005ء (سنن ابی داؤد كتاب التطوع - باب فى رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل) اور یہ بلند آواز بھی اور آہستہ آواز بھی انہیں حدود کے اندر تھی جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا پھر ایک روایت میں آتا ہے، جس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تلاوت کو کس طرح دیکھتا تھا۔یہ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کسی چیز کو ایسی توجہ سے نہیں سنتا جیسے قرآن کو سنتا ہے جب پیغمبر اس کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھے۔(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب استجاب الترتيل في القرآءة حديث نمبر (1470) تو اللہ تعالیٰ کی اپنے پیارے نبی پر جو نظر ہے اس وقت پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے، جب وہ اپنا کلام اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے خوش الحانی سے سنتا ہے کہ دیکھو میرا پیارا میرے کلام کو کس خوف کسی خشیت اور کس محبت کے ساتھ مکمل طور پر اس میں فنا ہو کر پڑھ رہا ہے۔پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔جب آپ رکوع کرتے تو سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو سُبْحَانَ رَبِّيَ الأغلى پڑھتے۔اور جب کوئی رحمت کی آیت آتی تو آپ رک جاتے ، تلاوت کے وقت اور رحمت طلب کرتے۔اور جب کوئی عذاب کی آیت آتی تو آپ رک جاتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے۔(سنن ابی داؤد - کتاب الصلاة -باب مايقول الرجل في ركوعه وسجوده) اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ رحمت اور پناہ طلب کرتے وقت بعض دفعہ آپ کی روتے روتے ہچکی بندھ جایا کرتی تھی۔آپ میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور پیار اور تعلق اور محبت اس طرح تھا کہ جس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے