خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد سوم 92 خطبہ جمعہ 18/ فروری 2005ء دل میں جو بغض بھرا ہوا تھا اس کی وجہ سے بالکل ہی اندھا ہو گیا ہے۔یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوٹی عمر کی بچیوں سے کوئی دلچسپی تھی۔حالانکہ جس کتاب کا حوالہ دے کر اس نے اپنی بات کی ہے، راجر سن (Barnaby Rogerson) کی کتاب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر۔اس نے واضح طور پر لکھا ہے کہ رخصتا نہ حضرت عائشہ کا بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہوا تھا۔پھر اس اندھے کو یہ بھی نظر نہیں آیا کہ آپ کی پہلی شادی کس عمر میں ہوئی جو جوانی کی عمر تھی۔پھر یہ نظر نہیں آیا کہ آپ کی تمام دوسری بیویاں بڑی عمر کی تھیں۔جب انسان اندھا ہو جائے تو تاریخ کو بھی تو ڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔جب بغض اور کینے بڑھ جائیں تو حق بات کہنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔بہر حال اس بحث کو میں اس وقت نہیں لے رہا۔اس وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس کام کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ میری عبادت کرو اور میرے عبادت گزار پیدا کرو۔صرف اسی کام سے آپ کو دلچسپی تھی اور اسی کے اعلیٰ معیار قائم کر کے دکھانے پر اللہ تعالیٰ نے گواہی بھی دی ہے۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا مور ( Moore) کی ان بیہودہ گوئیوں کا اس وقت جواب نہیں دے رہا۔لیکن حقائق اور واقعات اور تاریخ کو سامنے رکھ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی دلچسپی تھی تو اپنے پیدا کرنے والے خدا سے تھی اور نہ صرف دلچسپی تھی بلکہ عشق تھا۔اور ایسا عشق تھا جو کسی عشق کی داستان میں نہیں مل سکتا۔اگر کوئی خواہش تھی تو صرف یہ کہ میرا جسم ، میری جان ، میری روح اللہ تعالیٰ کے در پر پڑی رہے۔اور اس کی راہ میں قربان ہوتی رہے۔جوانی کے دنوں میں بھی آپ کو عورتوں یا لہوو لعب یا کھیل کو د سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اس وقت بھی ایک خدا کی تلاش میں ، اس کی محبت میں ، گھر بار چھوڑ کر بیوی بچے چھوڑ کر میلوں دور ایک غار میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے تا کہ کوئی بھی وہاں آ کے ڈسٹرب (Disturb) کرنے والا نہ ہو۔کیا دنیا سے دلچسپی رکھنے والا یا دنیا کی چیزوں سے دلچسپی رکھنے والا، دنیا کی چیزوں پر منہ مارنے والا اس طرح کے عمل دکھایا کرتا ہے؟ اور یہ ایسی چیز ہے جس سے مخالفین بھی اپنی کتابوں میں انکار نہیں کر سکے، چاہے نتیجے اپنی مرضی کے جو بھی نکالیں۔لیکن حقائق سے انکار نہیں ہوسکتا۔