خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد سوم والا تھا یا ہوسکتا ہے۔91 خطبہ جمعہ 18 / فروری 2005ء لیکن دنیا میں ایسے لوگ پیدا ہوتے آئے ہیں اور آج کل بھی ایسے پیدا ہورہے ہیں جو اسلام دشمنی میں خود یا نام نہاد مسلمانوں کو خرید کر ، لالچ دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرگھٹیا اور بیہودہ الزام لگاتے ہیں۔ایسے لوگوں کو وہ جاہل، اُجڈ اور مشرک لوگ ، اس عظیم نبی کی قوت قدسی اور دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بنتے نظر نہیں آتے۔لیکن جو لوگ بغض اور کینے اور دشمنی میں اس حد تک چلے جائیں جن کی انصاف اور دین کی آنکھ کام نہ کرتی ہو، اس لحاظ سے بالکل اندھے ہوں، جن کے دل سیاہ ہوں جو خود غلاظت میں پڑے ہوئے ہوں۔وہ جب بھی دیکھیں گے، اپنی اسی نظر سے دیکھیں گے۔وہ جب بھی دیکھیں گے ان کو اپنا اندرونہ ہی نظر آ رہا ہوگا۔اور صاف اور شفاف شیشہ وہی کچھ دکھاتا ہے جیسی کسی کی شکل ہو، جیسا کسی کا رنگ ہو۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفاف آئینے میں یہ لوگ جب دیکھیں گے تو ان کو اصل میں تو اپنا آپ نظر آ رہا ہو گا۔نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر، آپ کا حسین چہرہ۔آپ کا حسین چہرہ دیکھنے کے لئے تو پاک دل ہونا ضروری ہے۔انصاف کے تقاضے پورے کرنے ضروری ہیں۔خدا کا خوف ضروری ہے ، دلوں کے زنگ دور ہونے ضروری ہیں، پھر اس حسین چہرے کی پہچان ہو سکتی ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ایسے لوگ جو اسلام کو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ اپنے زعم میں بدنام کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔اور ایسی ایسی بیہودہ گوئیاں کر رہے ہوتے ہیں جنہیں کوئی بھی شریف آدمی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔اور یہ لوگ اپنے زعم میں بڑے پڑھے لکھے ہونے اور آزاد خیال ہونے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔دنیا کے سامنے اپنے خیال میں اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حقائق بیان کر رہے ہوتے ہیں۔اصل میں یہ ایسے لوگ ہیں جن کا اپنا چہرہ ان بیہودہ گوئیوں سے ظاہر ہو رہا ہوتا ہے۔بہر حال ایسے لوگوں میں سے یہاں آج کل ایک صاحب نے پچھلے دنوں مضمون لکھا تھا، جرنلسٹ ہیں چارلس مور ( Charles Moore )۔استہزاء کے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ سے شادی کے بارے میں لکھا۔لیکن بے چارہ اپنے کینے کی وجہ سے،