خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 90

خطبات مسرور جلد سوم 90 خطبہ جمعہ 18 / فروری 2005ء برابر ہے۔بلکہ یہ شیطان کو ختم کرنے اور اپنے نفس پر قابو پانے کا ایسا زبردست حربہ ہے کہ اس کا مقابلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔اس وقت کے عہد و پیمان اتنے پکے اور مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کو توڑنا ممکن نہیں ہوتا۔شیطان کی ملونی اس میں ہو ہی نہیں سکتی۔گویا اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بنے اور اپنے نفس کو ہلاک کرنے کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں کہ رات کو اٹھ کر عبادت کی جائے۔اور یہ عبادت کے اعلیٰ معیار ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑھ کر حاصل کئے۔بلکہ آپ کی قوت قدسی نے صحابہ میں اور امت میں بھی راتوں کو عبادت کے لئے اٹھنے والے پیدا کئے۔جس سورۃ کی آیت میں نے پڑھی ہے اس سورۃ کے آخر میں ہی اللہ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے کہ یقین اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ رات کے دو تہائی حصے میں یا آدھے حصے میں یا وقت کے لحاظ سے تیسرے حصے میں تو نے عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کر دیئے ، حق ادا کر دیئے۔ان کی اللہ گواہی دیتا ہے۔بلکہ ان لوگوں کی بھی گواہی دیتا ہے جو آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ان حکموں پر عمل کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ جو ہدایت کی گئی تھی کہ عبادت کے لئے اُٹھ اور ان اندھیری راتوں کی دعاؤں میں اپنے آپ کو بھی مضبوط کر اور اپنی امت کے لئے بھی حصار بن جا۔اس پر نہ صرف پورا اترا بلکہ اعلیٰ ترین معیار قائم کئے ، حق ادا کر دیا۔دوسری جگہ اس کی ایک اس طرح بھی گواہی ملتی ہے۔فرماتا ہے کہ الَّذِي يَريكَ حِيْنَ تَقُوْمُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِينَ (الشعراء: 219-220) یعنی جو دیکھ رہا ہوتا ہے۔جب تو کھڑا ہوتا ہے۔اور سجدہ کرنے والوں میں تیری بے قراری کو بھی۔پس جس کو خدا تعالیٰ یہ سند دے دے کہ تمام سجدہ کرنے والوں میں تیرے جیسا بے قرار سجدہ کرنے والا کوئی نہیں۔جب تو کھڑا ہوتا ہے تو تیرا کھڑا ہونا عبادت کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی خاطر ہے، عبادت کے لئے ہے۔اور جب تیرا سجدہ ہوتا ہے تو وہ بھی خدا اور صرف خدا کے لئے ہے۔اس کے آگے جھکنے کے لئے ہے۔اس کا رحم حاصل کرنے کے لئے ہے۔اپنے لئے بھی اور اپنی امت کے لئے بھی۔تو ایسے شخص کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دنیاوی لذات کے پیچھے چلنے