خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد سوم 85 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء گا۔خدا کی قسم اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتا تو میں مارا جاتا۔چنانچہ یہ قافلہ ابھی مکہ نہیں پہنچا تھا کہ اسی زخم سے سرف مقام پر وہ ہلاک ہو گیا۔(سیرت ابن هشام ـ غزوة احد۔مقتل ابی بن خلف) پھر ایک یہودی عالم کی آپ کی سچائی پر گواہی ہے، جو قیافہ شناس بھی تھا ، چہرہ شناس بھی تھا۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کا استقبال کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکل آئے۔اور یہ صدائیں بلند ہونے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔رسول اللہ علی صلى الله صلى الله تشریف لے آئے ہیں۔عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ علی کو دیکھنے کے لئے آیا۔یہی وہ یہودی عالم تھے۔جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔(ترمذى كتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب نمبر 42) ان تمام گواہیوں کو سامنے رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ آپ سچ بولنے والے اور خدا کے سچے نبی نہیں تھے۔سوائے اس کے کہ جن کے دل، جن کے کان، جن کی آنکھوں پر مہر لگ چکی ہو، پردے پڑ چکے ہوں، اور کوئی نہیں جو یہ باتیں کر سکے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی سچ کو اور حق کو ظاہر کیا اور پھیلایا ہی نہیں بلکہ اپنے ماننے والوں کے دلوں میں بھی پیدا کیا۔ان کے اندر بھی اس سچائی کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔اور اسی حق بات کہنے اور حق کہنے کی وجہ سے اور حق ماننے کی وجہ سے بہتوں کو شروع زمانے میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ بھی دھونے پڑے۔لیکن یہی ہے کہ ہمیشہ سچ کو سچ کہا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کسی اعلی تعلیم اور اس کے لانے والے کے اعلیٰ کردار کو جانچنے کے لئے اس شخص کی زندگی میں سچائی کے معیار بھی دیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔اور یہ معیار ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سب سے بڑھ کر نظر آتے ہیں۔آپ کی سچائی کا معیار بچپن اور جوانی میں بھی انتہائی بلند تھا۔جس کی ہم نے مختلف واقعات میں گواہی دیکھی ہے۔دشمن بھی باوجود آپ کی تعلیم اور خدا پر یقین نہ ہونے کے آپ کی طرف سے کوئی انذار کی بات سن کر کوئی ڈرانے والی بات سن کر خوفزدہ ہو جایا کرتے تھے۔