خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 755 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 755

خطبات مسرور جلد سوم 755 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء ہے۔تو بہر حال جلسہ جب ختم ہوا ہے تو جلسے کے اختتام پر نظارت دعوت الی اللہ کے اصرار پر کہ ان نو مبائعین کو ضرور ملنا چاہئے میں نو مبائعین کے بلاک میں گیا۔لیکن ان کی عدم تربیت اور جماعت کے ڈسپلن کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ایک ہنگامہ سا ہو گیا تھا۔بہر حال کچھ تو جذبات میں کھڑے تھے لیکن کچھ ایسا عصر بھی تھا جو صرف شور کرنے والا تھا۔جس طرح کسی دنیاوی جلسے میں ہوتا ہے یہ بعضوں کے چہروں سے نظر آ رہا تھا۔اور ہوسکتا ہے کہ بعض شرارت کی غرض سے بھی اندر بٹھائے گئے ہوں کیوں کہ یہاں بھی مخالفت تو ہے۔بہر حال ہمارے سیکیورٹی والوں کو اس وقت بڑی ہمت کرنی پڑی اور ان لوگوں کو کنٹرول کرنا پڑا۔یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ جو ان کے لئے احاطہ بنایا گیا تھا وہ اسی میں رہے۔لیکن اس صورتحال کے باوجود بھی پولیس کی سیکیورٹی کو نہیں بلانا پڑا جس طرح دوسرے جلسوں میں ہوتا ہے۔یہاں آ کر بلکہ دنیا میں جہاں بھی جماعت کے جلسے ہورہے ہوں پولیس والے یہی کہتے ہیں کہ آپ کے لوگوں کا کام بڑا آسان ہے کہ خود ہی یہ سارے کام سنبھال لیتے ہیں۔تو بہر حال جماعت کی روایات سے ہٹ کر تھوڑی دیر کے لئے بد انتظامی ہوئی تھی اور کیونکہ اس وقت Live چل رہا تھا، ایم ٹی اے کے کیمروں نے اسی وقت فوری طور پر اس کو تمام دنیا کو دکھا بھی دیا۔تو مختلف جگہوں سے یہ پیغام آنے شروع ہو گئے سیکیورٹی والوں کو بھی، مجھے بھی خط آئے کہ یہ کیا کیا؟ اس لئے میں نے ذکر کر دیا ہے۔بہر حال آئندہ انتظامیہ کو بھی خیال رکھنا چاہئے۔بغیر با قاعدہ پلاننگ کے یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔ایسی صورت میں کیونکہ بعض دفعہ ایسے لوگ جن کا آپ کو متعین طور پر پستہ نہ ہو وہ کوئی بھی ایسی حرکت کر سکتے ہیں جس سے نقصان ہو اور جماعتی روایات اور وقار کو خطرہ ہو۔بہر حال وہ بھی وقت خیریت سے گزر گیا۔اس پر بھی ہمیں شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچالیا۔تو جیسا کہ میں نے کہا اس دفعہ جلسہ پر 70 ہزار کی حاضری تھی جواب تک قادیان کے جلسوں میں ایک ریکارڈ حاضری ہے۔سات آٹھ ہزار شاید باہر کے ملکوں سے آئے ہوں گے، باقی تمام یہیں کے تھے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، ہمیں شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے