خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 754 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 754

خطبات مسرور جلد سوم 754 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء کا اظہا راپنے اقوال و افعال سے فرمایا۔چنانچہ جب نجاشی کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس ان کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔آپ کے صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! ان کی خدمت کے لئے ہم کافی ہیں۔آپ نے فرمایا انہوں نے ہمارے ساتھیوں کو بڑے اکرام سے رکھا تھا اور میں پسند کرتا ہوں کہ ان کے اس احسان کا بدلہ میں خودا تاروں۔- (کتاب الشفا للقاضي عياض - الفصل الثامن عشر – الوفاء وحسن العهد) پس یہ سبق ہے ہمارے لئے بھی کہ تم بھی ان بندوں کا شکر ادا کرو جو تمہارے کام یہاں حکومت کی انتظامیہ نے بھی ہر معاملے میں بہترین تعاون کیا ہے۔جلسہ سے پہلے جلسہ کے مدنظر قادیان کی گلیوں اور سڑکوں کو ٹھیک کروایا۔سیکیورٹی انتظامات ہر طرح سے صحیح ہونے کی طرف توجہ دی۔اور بڑی بھاری تعداد میں پولیس کی نفری یہاں مہیا کی۔جلسے کے جماعتی انتظامات کے لئے تو اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ جماعت میں تو خود ہی انتظام ہو جاتا ہے۔احمدی تو خودہی اپنے انتظامات کر لیتے ہیں۔اگر کوئی اور دنیاوی جلسہ ہو تو اتنے بڑے مجمعے میں دنگا فساد کا خطرہ ہوتا ہے۔ہم تو ایک پر امن قوم ہیں اور جو ایک دفعہ جماعت کے نظام میں اچھی طرح پر ودیا جائے اس کو تو اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔اس سے تو یہ فعل کبھی سرزد نہیں ہوتا کہ وہ ہنگامہ کرے۔وہاں اس قسم کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوتی جس طرح باہر ہوتی ہے۔لیکن شاید بیرونی خطرے کی وجہ سے بھی انہوں نے اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے سیکیورٹی کا انتظام کیا تھا۔بہر حال ہمیں اس معاملے میں ان کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ضمناًیہ بھی بتا دوں کیونکہ یہاں بعض بالکل غیر تربیت یافتہ نو مبائعین بھی آئے تھے، جن کو اب اپنی تربیت کی طرف خود بھی توجہ دینی چاہئے اور جن کے ذریعے سے بیعتیں ہوئی ہیں ان کو بھی ان کی تربیت کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ جلسہ دیکھنے کے لئے کچھ غیر از جماعت یا غیر مسلم بھی شامل ہو گئے تھے۔اور بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا کون کس قسم کا انسان