خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 753 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 753

خطبات مسرور جلد سوم 753 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء خوشخبری دیتا ہے آپ شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ سجدے میں چلے جاتے ہیں اور ہر دفعہ خوشخبری کے بعد سجدات شکر بجالاتے ہیں۔اس بارے میں عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے جب ہم زَوْرَء مقام کے قریب پہنچے تو وہاں حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ دیر دعا کی۔پھر حضور سجدے میں گر گئے اور بڑی دیر تک سجدے میں رہے۔پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔پھر سجدے میں گر گئے۔آپ نے تین دفعہ ایسا کیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعا مانگی تھی اور اپنی امت کے لئے شفاعت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے میری امت کے ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دے دی۔پھر اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کے لئے سجدے میں گر گیا اور سراٹھا کر پھر اپنی امت کے لئے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید ایک تہائی امت کی شفاعت کے لئے اجازت مرحمت فرمائی۔میں پھر شکرانے کا سجدہ بجالا یا۔پھر سراٹھایا اور امت کے لئے اپنے رب سے دعا کی۔تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے تیسری تہائی کی بھی شفاعت کے لئے مجھے اجازت عطا فرما دی اور میں اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجالانے کے لئے گر گیا۔(ابوداؤد - کتاب الجہاد۔باب في سجود الشكر) پس یہ شکر بھی ایک عظیم نعمت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں عطا کیا گیا ہے، اس کو حاصل کرنے کے لئے بھی ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننا چاہئے اس کے آگے جھکنا چاہئے اور اس کی عبادت کرنی چاہئے اور صحیح معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر دیکھیں بندوں کی شکر گزاری کے کیا کیا طریق سکھلائے۔جب مسلمانوں پر مکہ میں طرح طرح کے مصائب ڈھائے گئے تو انہوں نے خدا تعالیٰ کے اذن سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔اس وقت شاہ حبشہ نے ان کو اپنے ملک میں پناہ دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہ نجاشی کے اس احسان کو ہمیشہ یادرکھا اور ہر موقعہ پر آپ نے اس احسان کی شکر گزاری