خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 724 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 724

خطبات مسرور جلد سوم 724 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء کی عبادت کے زمرہ میں آتی ہیں۔اس لئے ہمیشہ ہر احمدی کو اس فکر میں رہنا چاہئے کہ کبھی بھی ، کسی معاملے میں بھی اس سے کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔اور بہر حال کیونکہ انسان کی طبیعت میں کمزوری ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو بہت سے احکامات پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے ہمیشہ دعاؤں اور استغفار اور اس کی مدد طلب کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے اور اس کی مدد طلب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ استغفار کرو۔جیسا کہ میں نے مثال بھی دی ہے کہ کس طرح ایک شخص میں استغفار کی وجہ سے تبدیلی پیدا ہوئی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔پس اس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے۔اور کبھی نفس امارہ کی بعض خواہشیں اس پر غالب آ جاتی ہیں۔پس وہ اپنی کمز ور فطرت کی رو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر وہ تو بہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اس کو ہلاک کرنے سے بچالے۔“ فرمایا : ” اور تو بہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگر وہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہر گز نہیں کرے گا“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 189-190) پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم برائیاں کرنے کے بعد کسی غلطی کے سرزد ہونے کے بعد اس درد کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں؟ استغفار کے ساتھ ايَّاكَ نَسْتَعِین کے مضمون کو بھی سامنے رکھتے ہیں؟ کمزوری سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس سوچ کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگ رہے ہیں؟ اور پھر اس کے ساتھ اس عہد پر قائم ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں یہ غلطیاں نہیں دوہرائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ