خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 723 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 723

خطبات مسرور جلد سوم 723 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کی ہمیں توفیق ملے گی۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” یعنی ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ذوق ، شوق ، حضور قلب بھر پور ایمان ملنے کے لئے۔روحانی طور پر ( تیرے احکام پر ) لبیک کہنے کے لئے سرور اور نور کے لئے۔(ترجمه کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد 7صفحه 121) پھر فرماتے ہیں کہ : ” مومن جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اس کا فضل اور کرم نہ ہو۔اس لئے وہ معا کہتا ہے ایسا كَ نَسْتَعِيْن مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔(الحكم 10 فروری 1904ء صفحه 2 کالم (1) پس اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے ، اس کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے ، دنیا کی محبت ٹھنڈی کر کے دین میں آگے بڑھنے کے لئے ، ایمان میں اضافے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کے لئے گویا ہر معاملے میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے حقوق بتائے ہیں وہاں اپنے بندوں کے حقوق کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں۔کئی دفعہ کئی لوگوں کے معاملات آتے ہیں۔بظاہر بڑے نیک اس لحاظ سے کہ نمازیں پڑھنے والے، بظاہر جماعتی طور پر اچھا کام کرنے والے ہوتے ہیں لیکن حقوق العباد کا سوال آئے اور اپنا مفاد ہوتو بعض دفعہ غلط بیانی بھی کر جاتے ہیں، دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کے ساتھ ہی مشروط ہے۔ظالم شخص کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں ہوسکتا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرنا، اس کی صحیح اور حقیقی عبادت ہے۔پس اس میں ظاہری نمازوں اور عبادتوں کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا، نظام جماعت کی پیروی کرنا، امانتدارانہ طور پر اپنے کام سرانجام دینا، اپنے فرائض کی ادائیگی کرنا، یہ سب باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ