خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 715
خطبات مسرور جلد سوم 715 خطبہ جمعہ 9 دسمبر 2005ء کرتا ہے پس اس بنیادی چیز کو پکڑ لیں۔جماعت میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے ہر قسم کی ناراضگیوں کو دور کر کے محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔اس سے خدا سے تعلق مزید مضبوط ہوگا اور مزید نیکیاں اختیار کرنے اور برائیاں چھوڑنے کی توفیق ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اپنی جماعت کے تقویٰ کے معیار کو بہت اونچادیکھنا چاہتے ہیں۔پس جہاں ان معیاروں کو حاصل کرنے کے لئے آپ عبادات کی طرف تو جہ کریں۔وہاں آپس کی محبت اور پیار اور ایک جان ہونے کی طرف بھی توجہ کریں۔یہاں مخالفت بھی کافی ہے اور مخالفین بھی یقیناً اس کوشش میں ہیں کہ یا تو ڈرا کر یا آپ میں بداعتمادی پیدا کر کے آپ کو کمزور کیا جائے۔پس اپنی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو بھلا کر ایک دوسرے سے پیار اور محبت کا تعلق پیدا کریں۔تا کہ جماعت کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے والے بن سکیں۔ہمیشہ قرآن کریم کے اس حکم کو اپنے سامنے رکھیں کہ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا (الانفال: 47) اور آپس میں جھگڑے نہ کیا کروا گر ایسا کرو گے تو تم بزدل بن جاؤ گے اور تمہارا رعب جاتا رہے گا۔اور صبر سے کام لو۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ آپس کے لڑائی جھگڑے اور آپس کے اختلافات ختم کر دے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر سے کام لے۔غیروں کے مقابلے میں تو ہم صبر سے کام لیتے ہیں۔گالیاں سن کر اکثر اوقات چپ رہتے ہیں۔لیکن آپس میں بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر مہینوں، سالوں ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں۔حالانکہ ہمیں تو یہ حکم ہے کہ آپس میں زیادہ محبت کا سلوک کرو۔دیکھیں جو وقار آپ کے بڑوں نے بنایا ، جماعت کو مخالفت کے باوجود ایک مقام دلانے کی کوشش کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی اس نیک نیتی اور جماعت کی خاطر قربانی کو قبول فرمایا۔آج ان کا نام جماعت کی تاریخ کا حصہ ہے۔آپ لوگ بھی یا درکھیں کہ جماعت کی خاطر ، اللہ تعالیٰ کی خاطر اگر آپ آپس میں ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرنے کی کوشش کریں گے تو جہاں آپ جماعت کا وقار قائم کر رہے ہوں گے وہاں آپ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا پیار بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والا یقینا اس کے فضلوں کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس کی نسلیں بھی اللہ تعالیٰ کے