خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 716
خطبات مسرور جلد سوم 716 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 2005ء فضلوں کو سمیٹنے والی ہوتی ہیں۔اور ان کا مخالفین پر بھی رعب قائم رہتا ہے۔ان کے اعلیٰ نمونے دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوتے ہیں۔پس دعوت الی اللہ کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپس کے اختلافات دور ہوں۔ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی فکر ہو۔یہی چیز آپ میں مضبوطی پیدا کرے گی۔اور آپ کو تبلیغ کے میدان میں بھی آگے لے جانے والی ہوگی۔دیکھیں آپ کے بڑوں نے کس فکر کے ساتھ اس چیز کو اپنایا تھا۔یہاں کی تاریخ پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ گویا وہ ایک جان تھے اور اس کا اثر تھا کہ ان چندلوگوں نے آج سے 70 سال بلکہ اس سے بھی پہلے 6-7 سو افراد کی جماعت بنالی۔اب ان میں سے ایک ایک کے آگے کئی کئی بچے ہیں۔ان میں تو نسل بڑھ رہی ہے لیکن تبلیغ کے میدان میں پیچھے ہیں۔اس کی ایک وجہ دنیا داری کی طرف زیادہ توجہ بھی ہو سکتی ہے۔آپس کی ان لوگوں کی طرح پیار و محبت میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے پس اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے جہاں اپنی کمزوریوں کو دور کریں وہاں جیسا کہ میں نے کہا تبلیغ میں بھی آگے بڑھیں ، لوگوں کی رہنمائی کریں لیکن اس کے لئے اپنے بھی اعلیٰ عمل اور عملی نمونے دکھانے ہوں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو خلافت سے وابستگی اور اخلاص ہے۔لیکن اس کے با وجود یہ کمزوری یہاں کافی ہے کہ تبلیغ کی طرف اس طرح توجہ نہیں دی جا رہی جس طرح ہونی چاہئے۔اس لئے جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیمیں بھی دعوت الی اللہ کے پروگرام بنائیں۔اردگرد کے چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جہاں بھی آبادی ہے وہاں وفد بھیجیں اور ان جزیروں کو احمدیت کی آغوش میں لائیں۔یہاں اس جزیرے میں بھی تبلیغ کریں۔مسلمان یہاں اگر خلاف ہیں تو اپنے مولویوں کے احمدیت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے خلاف ہیں۔ان کے علم میں ہی نہیں ہے کہ احمدیت کی حقیقی تعلیم کیا ہے اور ہمارا کیا ایمان ہے اور کیا مانتے ہیں۔کئی مسلمان شرفاء با وجودان فسادیوں کے جلوس نکالنے اور تقریریں کرنے کے، جو کہ ہمارے جلسے کے دوران آخری دن انہوں نے کیں، یہ شرفاء ہمارے جلسے میں شامل ہوئے اور مجھے ملے اور اسلام کی صحیح تصویر دکھانے اور احمدیت کے حقیقی پیغام کے پہنچانے کا شکریہ ادا کر کے گئے۔تو یہ مستقل تبلیغی را بطے اگر