خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 698
خطبات مسرور جلد سوم 698 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء یہ ہے کہ وہ حقوق بعض دفعہ اگر بچے ہوں تو بچوں کے ہوتے ہیں۔دوسرے کچھ حد تک اگر بیوی کے ہوں بھی تو وہ ایک وقت تک کے لئے ہوتے ہیں اس لئے بعد میں یہ مطالبہ کرنا کہ حق مہر نہ دلوایا جائے اور حق مہر میں اس کو ایڈجسٹ کیا جائے یہ میرے نزدیک جائز نہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلی تو بات یہ کہ دیکھ کر حق مہر مقرر کیا جائے۔حیثیت سے بڑھ کر نہ ہو۔اس کا تعین قضا کر سکتی ہے کتنا ہے۔اور جب تعین ہو گیا ہے تو فرمایا کہ یہ تو ایک قرض ہے اور قرض کی ادائیگی بہر حال کرنی ضروری ہے اس لئے یہ بہانے نہیں ہونے چاہئیں کہ حق مہر ادا نہیں کیا۔تو یہ قرض جو ہے وہ قرض کی صورت میں ادا ہونا چاہئے اس کا ان حقوق سے کوئی تعلق نہیں جو ملکی قانون دلواتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ جس کی حیثیت دس روپے کی ہے اس کا مہر ایک لاکھ کس طرح مقرر ہو سکتا ہے۔اس لئے حیثیت کے مطابق حق مہر مقرر کرنے کا حق یا تبدیل کرنے کا حق نظام جماعت کو ہے۔غیر احمدیوں نے تو عجیب عجیب ایسی رسمیں بنالی ہیں یعنی دین کو بھی بالکل تمسخر بنا دیا ہے۔بیہودہ قسم کے رسم و رواج جو ہیں وہ بیچ میں ڈال دیئے ہیں مثلاً برصغیر میں ہندوستان، پاکستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی رواج تھا وہیں سے میں نے مثال دی ہے کہ مثلا حق مہر دو من مچھر کی چربی۔اب نہ اتنی چربی اکٹھی ہو اور نہ حق مہر ادا ہو۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل غلط طریق کار ہے۔ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم نے مان لیا جنہوں نے ان بے عمل علماء کے فیصلوں اور فتووں سے ہمیں بچالیا۔پس اس بات کا شکرانہ بھی اس بات میں ہے کہ شادی کرنے والے جوڑے بھی ہمیشہ قول سدید اور تقویٰ سے کام لیں اور ان کے عزیز رشتہ دار بھی۔ایک خرچ جو آجکل شادی بیاہوں پر بہت بڑھ گیا ہے اور کم طاقت رکھنے والے اس خرچ کو پورا کرنے کے لئے مطالبہ بھی کرتے ہیں، مدد کی درخواست بھی کرتے ہیں وہ کھانے کا خرچ ہے۔لڑکی والے بھی اسراف سے کام لے رہے ہوتے ہیں اور لڑکے والے بھی گو کہ اب پاکستان