خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 663
خطبات مسرور جلد سوم 663 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے یہ جو عبادات میں حرکات ہیں اور آداب ہیں مختلف عبادتوں کے انسان کا ایک معین معتدل نظام ہے۔اس کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھنا چاہئے۔اسراف نہ ہو۔فرمایا کہ: ”اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے طبعی افعال کو بظاہر جسمانی ہیں مگر ہماری روحانی حالتوں پر ضرور ان کا اثر ہے۔پھر فرمایا: ” جسمانی سجدہ بھی روح میں خشوع اور عاجزی کی حالت پیدا کرتا ہے۔اس کے مقابل پر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ہم گردن کو اونچی کھینچ کر اور چھاتی کو ابھار کر چلیں تو یہ ضع رفتار ہم میں ایک قسم کا تکبر اور خود بینی پیدا کرتی ہے۔تو ان نمونوں سے پورے انکشاف کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ بے شک جسمانی اوضاع کا روحانی حالتوں پر اثر ہے۔فرمایا: ” ایسا ہی تجربہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ طرح طرح کی غذاؤں کا بھی دماغی اور دلی قوتوں پر ضرور اثر ہے۔مثلاً ذرا غور سے دیکھنا چاہئے کہ جو لوگ کبھی گوشت نہیں کھاتے ، رفتہ رفتہ ان کی شجاعت کی قوت کم ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ نہایت دل کے کمزور ہو جاتے ہیں اور ایک خداداد اور قابل تعریف قوت کو کھو بیٹھتے ہیں۔اس کی شہادت خدا کے قانون قدرت سے اس طرح پر بھی ملتی ہے کہ چارپایوں میں سے جس قدر گھاس خور جانور ہیں کوئی بھی ان میں سے وہ شجاعت نہیں رکھتا جو ایک گوشت خور جانور رکھتا ہے۔پرندوں میں بھی یہی بات مشاہدہ ہوتی ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ اخلاق پر غذاؤں کا اثر ہے۔ہاں جو لوگ دن رات گوشت خوری پر زور دیتے ہیں اور نباتاتی غذاؤں سے بہت ہی کم حصہ رکھتے ہیں وہ بھی حلم اور انکسار کے خلق میں کم ہو جاتے ہیں۔اور میانہ روش کو اختیار کرنے والے دونوں خلق کے وارث ہوتے ہیں۔اسی حکمت کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے كُلُوا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا (الاعراف: 32) یعنی گوشت بھی کھاؤ اور دوسری چیزیں بھی کھاؤ مگر کسی چیز کی حد سے زیادہ کثرت نہ کرو تا اس کا اخلاقی حالت پر بداثر نہ پڑے اور تا یہ کثرت مضر صحت بھی نہ ہو۔اور جیسا