خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 659
خطبات مسرور جلد سوم 659 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء دلانے والا ہو گا۔پس اگر دین و دنیا کی بھلائی چاہتے ہو تو اس تقویٰ کے لباس کو اپناؤ جو بہترین لباس ہے۔جس میں تمہاری حفاظت کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت سے، شیطانی حملوں سے بچنے کے علاوہ تمہاری خوبصورتی بھی ہے۔پھر اگلی آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا کہ اے ابنائے آدم ہر مسجد میں اپنی زینت یعنی لباس تقوی ساتھ لے جایا کرو۔اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔کیونکہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی اے آدم کے بیٹو! گو کہ تمہارا دھیان اور خیال اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف رہنا چاہئے تا کہ تمہاری دنیا و آخرت سنور جائے اور تم اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکو۔لیکن ایک عمل خاص طور پر اس کا قرب دلانے والا ہے جس میں انسان عاجزی، انکساری، تذلیل اور دعاؤں کا مختلف شکلوں میں اظہار کرتا ہے اور وہ نماز کی حالت ہے۔جس میں سجدہ کی حالت بھی آتی ہے جس میں انتہائی تذلیل کی حالت میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور گرتا ہے، جھکتا ہے اور گرنا چاہئے۔یہ ایک مسلمان کا فرض ہے۔اس لئے جب تم مسجد میں اس عبادت کے لئے جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے پر فرض کی ہے، تمہارے لئے مقرر فرمائی ہے، تو اپنے ذہن تمام دنیا وی دلچسپیوں سے مکمل طور پر خالی کر کے جاؤ۔تو بہ واستغفار اور ذکر الہی کرتے ہوئے مسجدوں میں داخل ہوتا کہ مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو۔جس طرح ظاہری طور پر وضو کر کے تم اپنے جسم کو پاک کرتے ہو اور وضو کر کے اپنے ظاہری گند کو اتارنے کی کوشش کرتے ہو اسی طرح روحانی طور پر بھی اپنی صفائی کے سامان کر لو۔اسی سے تمہاری زینت ہے اور تمہارے روحانی حسن میں اضافہ ہو گا۔اللہ کے حضور جب اس کی خشیت دل میں لئے ہوئے اور تقویٰ کا لباس پہنے ہوئے حاضر ہو گے تو اللہ جو اپنے بندوں کو گلے لگانے کے لئے انتظار میں رہتا ہے دوڑ کر تمہیں اپنی آغوش میں لے لے گا۔لیکن شرط یہی ہے کہ خالص اللہ کے ہوتے ہوئے اس کے آگے جھکنے والے ہو۔یہ نہ ہو کہ سنتی، کاہلی سے اور نہ چاہتے ہوئے مسجد میں جا رہے ہو۔اور پھر مسجد میں نماز کا انتظار کرنا پڑ جائے تو وہ بھی دوبھر لگ رہا ہو۔پھر یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ تو نماز جیسے تیسے پڑھ لی، جس طرح بھی امام نے پڑھائی لیکن اس میں بھی اپنی دنیاوی الجھنوں کے چکر میں پڑے