خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 636 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 636

خطبات مسرور جلد سوم 636 خطبه جمعه 21 /اکتوبر 2005ء کتاب ہے جو اُس وقت دنیا میں آئی تھی جبکہ بڑے بڑے فساد پھیلے ہوئے تھے۔اور بہت سی اعتقادی اور عملی غلطیاں رائج ہو گئی تھیں۔اور تقریباً سب کے سب لوگ بداعمالیوں اور بدعقید گیوں میں گرفتار تھے۔اسی کی طرف اللہ جل شانۂ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ (الروم:42) یعنی تمام لوگ کیا اہل کتاب اور کیا دوسرے سب بدعقید گیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فساد عظیم بر پا تھا۔غرض ایسے زمانے میں خدا تعالیٰ نے تمام عقائد باطلہ کی تردید کے لئے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں کل مذاہب باطلہ کا رد موجود ہے۔اور خاص طور سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کل عقائد کا ذکر ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه 379 جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں: ” تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔“ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحه 13) فرمایا : ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر قرآن شریف سے اعراض صوری یا معنوی نہ ہو (نہ ظاہری طور پر نہ معنوں کے لحاظ سے۔جو بھی تعلیم دی گئی اس پر عمل ہو ) تو اللہ تعالی اس میں اور اس کے غیروں میں فرقان رکھ دیتا ہے (فرق ظاہر کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور ایمان پیدا ہوتا ہے۔اس کی قدرتوں کے عجائبات وہ مشاہدہ کرتا ہے۔اس کی معرفت بڑھتی ہے۔اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کو وہ حواس اور قومی دیئے جاتے ہیں کہ وہ ان چیزوں اور اسرار قدرت کو مشاہدہ کرتا ہے جو دوسرے نہیں دیکھتے۔وہ ان باتوں کو سنتا ہے کہ اوروں کو اس کی خبر نہیں“۔(الحکم 17 اگست 1905ء صفحه 5 کالم نمبر 4) تو دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی قرآن کریم کا سیکھنا ، پڑھنا، یاد کرنا ضروری ہے۔