خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد سوم 631 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء اب میں چند احادیث پیش کرتا ہوں جن سے قرآن کریم کے پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی برکات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا اس کو اس کے پڑھنے کی وجہ سے ایک نیکی ملے گی اور اس ایک نیکی کی وجہ سے دس اور نیکیاں ملیں گی۔پھر فرمایا میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، اور لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔(ترمذى كتاب فضائل القرآن باب ماجاء فى من قرأ حرفا من القرآن۔۔۔۔۔۔پھر ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: وہ شخص جو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اور اس میں عبور رکھتا ہے، اچھی طرح پڑھتا ہے، وہ فرمانبردار اور معز ز سفر کرنے والوں کے ساتھ ہوگا۔ان کے ساتھ اس کو مقام ملے گا۔(ترمذى كتاب فضائل القرآن باب ماجاء في فضل قارى ، القرآن) پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : جس شخص نے ایک رات میں پچاس آیات قرآن کی تلاوت کیں وہ غافل لوگوں میں شمار نہ کیا جائے گا۔“ (سنن الدارمي - كتاب فضائل القرآن باب من قرأ خمسين آية) ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ : ” جس نے ایک رات میں پچاس آیات قرآن کی تلاوت کیں وہ حفاظ قرآن میں شمار ہوگا۔“ (سنن الدارمي - كتاب فضائل القرآن باب من قرأ خمسين آية) اور حفاظ قرآن کے درجات کے بارے میں روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حافظ قرآن کو جنت میں داخل ہوتے وقت کہا جائے گا کہ تم قرآن پڑھتے جاؤ اور بلندی کی طرف چڑھتے جاؤ۔پس وہ قرآن کریم پڑھتا جائے گا اور بلندی کی منازل طے کرتا جائے گا۔کیونکہ ہر ایک آیت کے بدلے اس کے لئے ایک درجہ ہوگا۔یہاں تک کہ آخری آیت کے پڑھنے تک جو اسے یاد ہوگی وہ