خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد سوم 628 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رمضان میں اس نصیحت سے پُر کلام کو ، جیسا کہ ہمیں اس کے زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی توفیق مل رہی ہے، اپنی زندگیوں پر لا گو بھی کریں۔اس کے ہر حکم پر جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کریں۔اور جن باتوں کی مناہی کی گئی ہے، جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیں، ان سے بچیں، اور کبھی بھی ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں خود قرآن کریم میں ذکر ہے۔فرمایا کہ وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 31) اور رسول کہے گا اے میرے رب ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔یہ زمانہ اب وہی ہے جب اور بھی بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔پڑھنے والی کتابیں بھی اور بہت سی آ چکی ہیں۔اور بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔انٹرنیٹ وغیرہ ہیں جن پر ساری ساری رات یا سارا سارا دن بیٹھے رہتے ہیں۔اس طرح ہے کہ نشے کی حالت ہے اور اس طرح کی اور بھی دلچسپیاں ہیں۔خیالات اور نظریات اور فلسفے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔جو انسان کو مذہب سے دور لے جانے والے ہیں اور مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔دنیا میں سارا معاشرہ ہی ایک ہو چکا ہے۔قرآنی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی تعلیمات پر ہر جگہ عمل ہو رہا ہے۔یہی زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔اسی زمانے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قرآن کو متروک چھوڑ دیا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی اس متروک شدہ تعلیم کو دنیا میں دوبارہ رائج کرنا ہے اور آپ نے یہ رائج کرنا تھا بھی اور آپ نے یہ رائج کر کے دکھایا بھی ہے۔آج ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنی تعلیم پر نہ صرف عمل کرنے والا ہو، اپنے پر لاگو کرنے والا ہو بلکہ آگے بھی پھیلائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھائے۔اور کبھی بھی یہ آیت جو میں نے اوپر پڑھی ہے کسی احمدی کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہئے کہ جو لوگ قرآن کو