خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 624
خطبات مسرور جلد سوم 624 خطبه جمعه 21 /اکتوبر 2005ء سنا اور اپنی رحمت کے دروازے کھولے اور دنیا کو گند اور شرک میں پڑا ہوا دیکھ کر بے چین اور بیزار ہونے والے وجود کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے آخری شرعی کتاب دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔اور پھر 23 سال کے لمبے عرصہ تک یہ شریعت اترتی رہی اور جبریل آپ کے پاس ہر رمضان میں اس وقت تک کے نازل شدہ قرآن کا ایک دور مکمل کرواتے تھے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے سال (جس سال آپ کا وصال ہوا) اس سال کا جورمضان تھا، اس سال میں جبکہ شریعت مکمل اور کامل ہو چکی تھی جبریل نے دو دفعہ قرآن کریم ختم کروایا۔پس یہ سنت ہے جس کو مومن جاری رکھتے ہیں۔اور کم از کم ایک یا دو دفعہ رمضان میں قرآن کریم کا دور مکمل کرتے ہیں ختم کرتے ہیں، پڑھتے ہیں۔اور جن کو تو فیق ہو وہ دو دفعہ سے زیادہ بھی پڑھ لیتے ہیں۔لیکن اتنی جلدی بھی نہیں پڑھنا چاہئے کہ سمجھ ہی نہ آئے کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جواہل زبان تھے،عرب تھے ان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس نے تین دن سے کم عرصے میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کریم کا کچھ بھی نہیں سمجھا۔“ (ترمذى۔ابواب القراءات باب ما جاء انزل القرآن على سبعة أحرف) ایک روایت میں سات دن کا بھی ذکر آتا ہے۔تو صحابہ کی بھی جو اپنی استعداد تھی اس کے مطابق آپ حکم دیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا کرتے تھے، نصیحت فرمایا کرتے تھے۔بہر حال بنیادی مقصد یہی ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرو، اس کے مطالب پر غور کرو، اس کی تعلیمات پر غور کرو۔ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ۔اگر اس طرح قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر رہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔صحابہ نے اس نکتے کو خوب سمجھا کہ قرآن کریم کو کس طرح پڑھنا ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی گواہی دی۔جیسا کہ اس آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی، وہ اس کی ایسی ہی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو درحقیقت اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرے پس وہی ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔