خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 618

خطبات مسرور جلد سوم 618 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں وارنگ ہے تو چاہئے کہ ایک دوسرے سے خدا کی خاطر محبت کریں اور سمجھیں کہ کیوں وارننگ ہے۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ہمیشہ پناہ مانگیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ہمیں ایک دعا یوں سکھائی ہے کہ : اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں ، اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔میں خالص تیری پناہ چاہتا ہوں۔میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا۔بے شک تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف آپ کی ہے۔(ابن ماجة۔كتاب اقامة الصلوة - باب ماجاء في القنوت في الوتر) پس اللہ کی رضا کی پناہ اور اللہ کی معافی کی پناہ میں آنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا چاہئے۔سیاسی لیڈروں کو بھی ، علماء کو بھی ، عام آدمی کو بھی۔آپس کی نفرتوں اور کدورتوں اور دشمنیوں کو، ایک دوسرے پر کفر کے فتووں کو ختم کرنا چاہئے۔ہم احمدی بہر حال ہمدردی کے جذبے سے یہ دعا کرتے ہیں کہ جس طرح بظا ہر آجکل اس آفت کی وجہ سے پوری قوم ایک ہوئی ہوئی ہے ہمیشہ ایک رہے اور اللہ کا خوف ان کے دل میں قائم ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ حال تھا کہ بارش ، بادل کو دیکھ کر بھی آپ کی عجیب حالت ہو جایا کرتی تھی۔اس کا ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی کے آثار دیکھتے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔کہتی ہیں ایک دن میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! لوگ تو با دل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی۔مگر میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا پتہ اس آندھی میں بھی ویسا ہی عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک قوم ہلاک ہو گئی تھی۔اور ایک قوم ایسی گزری ہے جس نے عذاب دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو بادل ہے برس کر چھٹ جائے گا۔مگر وہی بادل ان پر درد ناک عذاب بن کر برسا۔(بخاری۔کتاب التفسير - سورة الاحقاف باب قوله فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم) پس ہم جو مسلمانوں کے کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ان سب کو یہی