خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 615 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 615

خطبات مسرور جلد سوم 615 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء رہائش تو اس قابل نہیں رہی۔اس لئے ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہاں ان کی رہائش کا مسئلہ حل کریں۔اور پھر چونکہ بے تحاشا اموات ہوئی ہیں اور ان کو فوری طور پر دفنانے کا بھی انتظام نہیں ہے ،ان کے پاس سامان نہیں اس لئے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔تو ٹینٹ اور گرم کپڑے اور دوائیاں وغیرہ اور ڈاکٹر وغیرہ فوری طور پر وہاں چاہئیں۔جماعت کا خیال تھا کہ کچھ علاقے مخصوص کر کے، جو بھی وہاں حکومت علاقے جماعت کے لئے مخصوص کر دے، وہاں ایک ٹینٹ کالونی قائم کر دی جائے اور اُن لوگوں کو مکمل طور پر جماعت سنبھالے۔کم از کم دو مہینے کے لئے راشن وغیرہ اور کھانا وغیرہ بھی مہیا کرے اور ہر چیز رہائش اور کپڑے بھی۔اس کے لئے بہر حال کوشش ہو رہی ہے۔باقی سامان کا تو انشاء اللہ تعالیٰ انتظام ہو جائے گا بلکہ ہو گیا ہے لیکن وہاں خیمے نہیں مل رہے تھے۔کیونکہ فوج نے اور دوسرے لوگوں نے پہلے لے لئے تھے۔کچھ تو یہاں سے ہیومینٹی فرسٹ UK نے 500 کے قریب خیمے خریدے ہیں۔اسی طرح پاکستانی جماعت نے انتظام کیا ہے، چین سے منگوا رہے ہیں ہزار ڈیڑھ ہزار خیمے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ یہ لوگ اس کام کو باحسن کر سکیں اور ہمیشہ کی طرح دکھی انسانیت کی بے نفس ہو کر خدمت کر سکیں۔ہیومینیٹی فرسٹ کی طرف سے ڈاکٹروں کا ایک گروپ تقریباً 20 ہزار پونڈ مالیت کی دوائیاں بھی ساتھ لے کر گئے ہیں جس میں پانچ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کے دو آدمی شامل ہیں اور جرمنی سے دو ڈاکٹر ز گئے ہیں اور ایک یہاں UK سے بھی گیا ہے جو پاکستان پہنچ چکا ہے۔ڈاکٹروں کی ایک ٹیم امریکہ میں بھی تیار بیٹھی ہے جب بھی ان کو اشارہ ملے گا، کیونکہ روٹیشن (Rotation) میں جانا ہے، تو وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ روانہ ہو جائیں گے۔ہیومینیٹی فرسٹ کے تحت یہاں سے کنٹینر بھی آج یا کل جانے والا ہے جس میں خیمے اور دوسرا سامان بھی ہوگا۔یہ جو ڈاکٹر یہاں سے گئے تھے اب ان کی اطلاع ہے کہ باغ جو وہاں ایک جگہ ہے وہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور کام شروع کر دیا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ نقد رقم بھی اور سامان بھی ہو مینیٹی فرسٹ مہیا کرتی رہے گی۔لیکن یہ کام اتنا بڑا اور تباہی اتنی وسیع علاقے پر ہے کہ جیسے میں بتا چکا ہوں، چھوٹی چھوٹی