خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد سوم 614 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء ہمیں کوئی نام و نمود نہیں چاہئے۔کسی سے بھی اس کا اجر نہیں چاہئے۔صرف دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہمارا مقصد ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض لوگوں کی تسلی کے لئے مختصر آبتا دوں، پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کہ بعض جگہ سب سے پہلے ہماری ٹیمیں پہنچی ہیں۔وہاں ابتدائی طور پر جو بھی مدد ہو سکتی تھی وہ ان کی کی گئی۔پھر جو حالات تھے کہ آفت کے بعد آفت۔یعنی زلزلے کے بعد سخت بارش اور اولے پڑنے شروع ہو گئے۔گھر تو لوگوں کے رہے نہیں تھے، باہر ٹھنڈ میں لوگ پڑے ہوئے تھے جو اس آفت اور زلزلے سے بچ گئے تھے، گھروں میں دبنے سے بچ گئے تھے، بھوکے پیاسے تھے تو وہاں بھوک پیاس مٹانے کے لئے خشک راشن کا تو کوئی فائدہ نہیں تھا۔کیونکہ باہر بارش ہو رہی تھی لکڑی جل نہیں سکتی تھی۔تو ہمارے خدام اسلام آباد سے کئی کئی دیگیں چاول پکوا کے اور ان کے پیکٹ بنا کے لے جاتے تھے۔جن علاقوں تک وہ پہنچ سکتے تھے قریب ترین، پورے علاقے کو تو سنبھال نہیں سکتے تھے لیکن ایک دو گاؤں تک جہاں تک وہ پہنچ سکتے تھے وہ پہنچتے رہے اور روزانہ ڈیڑھ دو ہزار آدمیوں کو پکا ہوا کھانا ملتا رہا۔پھر اس کے علاوہ روزانہ دو تین ٹرک جماعت کی طرف سے جن میں خشک راشن، کپڑے کمبل وغیرہ بھی جاتے رہے ہیں۔پھر ملک کے دوسرے حصوں سے بھی ہر جگہ سے جہاں جہاں جماعت ہے انہوں نے ریلیف فنڈ کے لئے مدد کی ہے۔احمدی سامان اکٹھا کر رہے ہیں اور بھیج رہے ہیں۔کل ہی تین ٹرک چاول جس میں ساڑھے سات سو بوری چاول تھا۔چار ٹرک کمبل ، بستر اور گرم کپڑے وغیرہ سیالکوٹ ، شیخوپورہ سے گئے ہیں۔اس سے پہلے لاہور وغیرہ سے بھی جاچکے ہیں۔پھر ربوہ سے کل ایک ٹرک گرم کپڑوں کا گیا ہے۔وہاں لجنہ ، انصار، خدام ماشاء اللہ سب یہ کام کر رہے ہیں۔اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے ہیں اور یہ امدادی کام سنبھالا ہوا ہے۔اور بڑی خوش اسلوبی سے یہ سرانجام دے رہے ہیں۔دو دن کی بات ہے میں ٹی وی پر سن رہا تھا کہ سرکاری عہدیدار، کوئی سیاسی لیڈر باتیں کر رہے تھے کہ آئندہ چند دنوں میں ان علاقوں میں شدید سردی پڑنے والی ہے۔کشمیر کے علاقے میں تو ٹھنڈ ہوتی ہے۔اس لئے فوری طور پر وہاں جو مسئلہ ہے وہ رہائش کا ہے۔کیونکہ موجودہ