خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 613
خطبات مسرور جلد سوم 613 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء طرف منسوب ہوتے ہیں۔منسوب ہونے کا کم از کم دعوئی رکھتے ہیں۔اس لئے آج یہ تکلیف میں ہیں تو ہمیں اپنی تکلیفیں بھلا کر ان کی مدد کرنی چاہئے۔پھر پاکستانی احمدی کا جیسا کہ میں نے کہا ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے بھی یہ فرض بنتا ہے کہ اس آسمانی آفت کی وجہ سے ملک میں جو تباہی آئی ہے اس کی بحالی کے لئے ملک کی مدد کریں۔آسمانی آفات جب آتی ہیں تو پھر چھوٹا ، بڑا، بچہ ، بوڑھا، غریب، امیر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔دیکھ لیں خبریں یہی بتاتی ہیں کہ بعض شہروں میں سرکاری افسران بھی اور ممبر آف پارلیمنٹ بھی ، سیاسی لیڈر بھی ، سکولوں کے بچے بھی ، عورتیں بھی ، بوڑھے بھی ،سب کے سب بعض جگہوں پر اس زلزلے کی وجہ سے مکانوں کے گرنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ، وفات پا گئے۔تو یہ بہت بڑی تباہی تھی۔شہروں کے شہر جڑ گئے ، دیہاتوں کے دیہات ملیا میٹ ہو گئے ، بعض تو صفحہ ہستی سے ختم ہو گئے۔ابھی تک بعض جگہوں پر امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔لیکن پھر بھی جو روز خبریں آتی ہیں بڑا خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت بعض جگہ اپنے وسائل کے لحاظ سے امدادی کام کر رہی ہے اور کرنا بھی چاہئے۔بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں خدام الاحمدیہ کی ٹیمیں سب سے پہلے پہنچیں۔نہ کوئی حکومتی ٹیم وہاں پہنچی ، نہ کوئی فوج پہنچی، نہ کوئی اور ادارہ، این جی او یا کوئی اور پہنچا۔لیکن بہر حال جماعت وہاں پہنچتی ہے اور خاموشی سے کام کرتی ہے کیونکہ اس کا اتنا زیادہ پراپیگینڈ نہیں ہوتا، زیادہ شور شرابہ نہیں کرتی۔مقصد صرف خدمت خلق ہوتا ہے اس لئے بہت سوں کو ان خدمات کا پتہ نہیں ہوتا جو چھپی ہوئی خدمات ہورہی ہوتی ہیں۔لیکن بعض احمدی کیونکہ مستقل فیکسیں بھیجتے رہتے ہیں یا مشورے بھی لکھتے رہتے ہیں کہ یوں ہونا چاہئے اور بعض غیر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ احمدی خاموش ہیں تو شاید یہ لوگ، پاکستانی احمدی اس آسمانی آفت پر قوم سے ہمدردی نہیں کر رہے، اور ان کی مدد نہیں کر رہے۔تو اس لئے میں مختصر البعض کام جو فوری طور پر جماعت نے شروع کئے ان کے متعلق بتا دیتا ہوں۔پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ جیسا میں نے کہا ہم تو اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والے ہیں،