خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 612
خطبات مسرور جلد سوم 612 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء ہوتی ہے۔اور جس جس ملک میں بھی احمدی بستا ہے وہ اپنے وطن سے، اپنے ملک سے خالص محبت کی عملی تصویر ہے۔اس لئے اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہے کہ پاکستانی احمدی ملک کے وفادار نہیں ہیں تو یہ اس کا خام خیال ہے۔گو کہ اس زلزلے کے بعد سے فوری طور پر ہی افراد جماعت بھی اور جماعت احمدیہ پاکستان بھی اپنے ہموطنوں کی ، جہاں تک ہمارے وسائل ہیں، مصیبت زدوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔لیکن میں پھر بھی ہر پاکستانی احمدی سے یہ کہتا ہوں، ان کو یہ توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ ان حالات میں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں، حتی المقدور ان کی مدد کریں۔جو پاکستانی احمدی باہر کے ملکوں میں ہیں ، ان کو بھی بڑھ چڑھ کر ان لوگوں کی بحالی اور ریلیف (Relief) کے کام میں حکومت پاکستان کی مدد کرنی چاہئے۔وہاں کی ایمبیسیوں نے جہاں جہاں بھی فنڈ کھولے ہوئے ہیں اور جہاں ہیومینیٹی فرسٹ (Humanity First) نہیں ہے، ان ایمبیسیز میں جا کر مدد دے سکتے ہیں۔ہماری ذمہ داریاں تو کئی طرح بنتی ہیں۔ایک بحیثیت انسان، جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک احمدی کو سب سے زیادہ انسانیت کا ادراک حاصل ہے۔ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم محسن انسانیت کے سب سے زیادہ عاشق ہیں۔اس لئے آج اگر دکھی انسانیت ہمیں بلا رہی ہے تو ہمیں اس کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے۔یہ میں صرف اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میں پاکستانی ہوں اس لئے پاکستان کی مدد کریں۔انڈونیشیا میں طوفان آیا وہاں بھی ہم نے مدد کی ہے اور جگہوں پر بھی آیا ، وہاں پر بھی مدد کی۔ایران میں بھی کی ، جاپان میں بھی کی۔تو ہر جگہ جماعت احمدیہ ہمیشہ کرتی ہے۔لیکن ہم میں سے یہاں بیٹھے ہوئے اکثریت جو پاکستانیوں کی ہے ، اپنے وطن کی محبت کا تقاضا ہے کہ ان کو بہر حال مدد کرنی چاہئے۔اور بحیثیت ایک مسلمان، قطع نظر اس کے کہ وہ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں، ہم بہر حال مسلمان ہیں اور وہ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔اس لئے بحیثیت مسلمان ہمیں مدد کرنی چاہئے۔عوام کی اکثریت کم علمی کی وجہ سے اپنے بعض علماء کے پیچھے پڑ کر ہمارے خلاف ہے لیکن یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی