خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد سوم 609 خطبه جمعه 14 اکتوبر 2005ء اترنا ہے، ان کے لئے دعا کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے کبھی بھی جماعت کی قربانیاں ضائع نہیں کیں اور یہ قربانیاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالی ضائع نہیں کرے گا۔لیکن وہی بات ہے کہ ہمیں صبر سے کام لینا چاہئے۔ہمارے لئے خوشخبریاں بھی اسی صورت میں ہیں جب ہم صبر کریں گے۔اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہم ہمیشہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ الَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوْا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴾ یعنی ان پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو گھبراتے نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔پس جب یہ سوچ ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنی خاطر قربانی دینے والے افراد کے درجات تو بلند فرما ہی رہا ہو گا۔ان شہداء کے پیچھے رہنے والوں کے لئے یہ امتحان آسان کر دے گا۔اور نہ صرف یہ کہ یہ امتحان آسان فرمائے گا بلکہ اپنے فضل سے ایسی برکات سے اور ایسے فضلوں سے نوازے گا کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایک مومن کو کوئی دکھ پہنچے یا رنج پہنے یا تنگی اور نقصان پہنچے اور اگر وہ صبر کرتا ہے تو اس کا یہ طرز عمل بھی اس کے لئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔(تفسیر الدرالمنثور تفسير سورة البقرة آيت نمبر 157) کیونکہ وہ صبر کر کے ثواب حاصل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ شہداء کے تمام عزیزوں کو صبر سے 66 صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی جناب سے بے انتہا نوازے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ: خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہوگا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔گالیاں سنو اور چپ رہو۔ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کرو تا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔یقین یا درکھو کہ جولوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل ان کے خدا کے خوف سے پکھل جاتے ہیں انہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے“۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 68)