خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد سوم علاقے میں خوفناک تباہی پھیلائی۔608 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء جہاں تک پہلے واقعہ کا تعلق ہے ہمیں پتہ ہے کہ الہبی جماعتوں پر امتحان آتے ہیں۔تمام انبیاء پر ایسی سختیاں اور ظلم ہوئے اور انہوں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کی اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔جماعت احمدیہ کی گزشتہ سو سال سے زائد کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی جماعت کے افراد پر یا جماعت پر ایسا موقع آیا تو جماعت کے افراد نے صبر اور حوصلے کے ساتھ تمام ظلم برداشت کئے۔کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔اور اسی صبر کا نتیجہ ہے کہ ہر ایسے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت کو پہلے سے بڑھ کر نوازتا ہے اور نو از تا چلا جارہا ہے، اور انشاء اللہ تعالیٰ نواز تار ہے گا۔اس لئے آج بھی افراد جماعت کو اور خاص طور پر ان لوگوں کو جن کے بچے ، بھائی یا خاوند شہید ہوئے یا زخمی ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے صبر کے ساتھ اس کا رحم اور فضل مانگتے رہنا چاہئے۔یہ افراد جو شہید ہوئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمیشہ کی زندگی پاگئے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جن کو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیشہ یادرکھیں گی۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کے متعلق یہ مت کہو کہ وہ مُردہ ہیں۔وہ مُردہ نہیں مگر تم نہیں سمجھتے۔کتنا بڑا اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا ہے، وہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔پس مونگ کے یہ آٹھ شہید اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر حاصل کرنے والے ہیں۔پھر ان لوگوں کا خون تو اُس وقت بہایا گیا تھا جب خدا کے گھر میں اس کی عبادت میں مصروف تھے۔ظالمانہ طور پر گولیوں کا نشانہ اس وقت بنایا گیا تھا جب وہ خدا کے حضور جھکے ہوئے تھے۔یقینا یہ شہداء اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔پس ہر احمدی جس نے خدا کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا مقام پایا، اس کے عزیز اور رشتہ دار اور ہر احمدی کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہ خدا کی خاطر قربانی کرنے والے اپنی دائمی زندگی بنا گئے ہیں، ہمیشہ کی زندگی بنا گئے ہیں۔گوان کے بچوں اور قریبی عزیزوں کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ملنے کے بعد ہم نے حوصلے اور صبر سے اس کو برداشت کرنا ہے اور اس آزمائش پر پورا