خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 607
خطبات مسرور جلد سوم 607 (40) خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء دو المناک واقعات۔سانحۂ مونگ اور شمالی پاکستان اور آزاد کشمیر میں خوفناک زلزله زلزلہ کے متاثرین کی امداد کے لئے جماعت محض اللہ کی خاطر خدمت میں مصروف ہے۔خدا تعالیٰ نے جماعت کی قربانیاں نہ کبھی ضائع کیں اور نہ کرے گا خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَا وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمُ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة: 155 تا 157) پھر فرمایا:۔گزشتہ دنوں دوا ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے ہر احمدی کے دل میں چاہے وہ کہیں کا بھی رہنے والا احمدی ہے، ایک غم اور درد کی لہر دوڑا دی۔مختلف ممالک سے خطوط کے ذریعہ سے اس کا اظہار ہوا۔خاص طور پر پاکستانی احمدیوں کے لئے یہ دونوں صدمے بہت تکلیف دہ تھے۔ہر دل بے چین ہو گیا۔ایک واقعہ تو گزشتہ جمعہ کو ہوا تھا جس کا میں نے خطبہ کے آخر پر ذکر بھی کیا تھا۔دوسرا واقعہ دوسرے روز صبح ایک خوفناک زلزلے کا تھا جس نے شمالی پاکستان اور کشمیر کے وسیع