خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد سوم 54 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء پینے کے پانی کی قلت ہے۔انڈونیشیا، یو کے اور امریکہ سے 24 ڈاکٹر ، 6 ہو میو پیتھی ڈاکٹر ، اور 6دوسرے افراد پرمشتمل عملہ اور 74 خدام یہاں کام کر رہے ہیں اور پہلے تو کافی تعداد میں مریض دیکھے تھے۔اب روزانہ 100 ، 150 مریض یہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔انڈونیشیا نے ہندوستان اور پاکستان سے جو مدد آئی تھی، یہاں تقریباً اڑھائی اڑھائی سو فوجی تھے یہاں۔وہاں انڈونیشیا کی حکومت ہیومینٹی فرسٹ کے کام سے اس طرح متاثر ہوئی ہے، بلکہ یہ لوگ خود بھی کہ وہ ان کے ساتھ مل کے کام کر رہے ہیں بلکہ پاکستانیوں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ جب ہم فروری میں چلے جائیں گے تو صرف آپ ہی ہمارے ملٹری ہسپتال کو سنبھالیں۔لیکن یہ بات اگر ملاں کو پہنچ گئی تو بڑا سخت اعتراض ہوگا۔پھر یتامی کی پرورش کا بہت سارے لوگوں نے مجھے لکھا تھا کہ وہاں بڑے بچے یتیم ہوئے ہوں گے اور ہورہے ہیں اور سنا ہے کہ عیسائی چر چوں نے وہاں جا کے بچے لینے شروع کر دیئے ہیں یہ تو عیسائی بن جائیں گے۔مسلمان بچوں کو مسلمان رہنا چاہئے۔اس لئے ہم اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں ، ہم اتنے بچے سنبھالیں گے ، اتنے بچے سنبھالیں گے۔تو اس کے لئے میں نے پتہ کروایا تھا۔اب تک کی جور پورٹ ہے اس کے مطابق پہلی بات تو یہ ہے کہ وہاں کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یتامیٰ کی نگہداشت کے لئے ان کو دوسروں کے سپر دنہیں کرنا۔کیونکہ بوسنیا اور البانیہ وغیرہ کا ان کو تجربہ ہے اسی حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ مسلمان بچے کہیں عیسائی نہ ہو جائیں اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔لیکن بہر حال یہ فیصلہ اب تک ہے کہ وہاں جو 200 یتیم بچے ہیں ان کو جماعت سنبھالے گی اپنے وسائل کے لحاظ سے۔ابھی میں ویسے پتہ کروارہا ہوں۔مزید ان کو کہا ہے کریں کہ اگر یہ ان کو یقین ہو جائے کہ مسلمان گھروں میں ہی بچے جائیں گے تو پھر وہ دینے کے لئے تیار ہیں کہ نہیں۔اسی طرح انڈونیشیا کے سفارتخانے نے ہیومینٹی فرسٹ سے درخواست کی کہ ہمیں بہت سی امدادل رہی ہے لیکن ہماری خواہش یہ ہے کہ آپ جس طرح افریقہ میں غریبوں کی امداد کرتے ہیں اسی طرح ہماری بھی مدد کریں۔تو اس پروگرام کے تحت انڈو نیشین سفارتخانے نے یہاں مقیم