خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 601
خطبات مسرور جلد سوم 601 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء رکھیں گے کہ جس سے کبھی کوئی زیادتی نہ ہو۔ہر ایک، ایک دوسرے کے عیب دیکھنے کی بجائے اپنے عیب تلاش کر رہا ہوگا۔ایک دوسرے کی برائیاں تلاش کرنے کی بجائے اپنی برائیوں ، کمیوں، کمزوریوں اور خامیوں کو ڈھونڈ رہا ہو گا۔میں حیران ہوتا ہوں بعض دفعہ یہ سن کر بعض لوگ بتاتے بھی ہیں اور لکھ کر بھی بھیجتے ہیں کہ آپ کے فلاں خطبے پر مجھ سے فلاں شخص نے کہا یہ تمہارے بارے میں خطبہ آیا ہے اس لئے اپنی اصلاح کر لو۔حالانکہ چاہئے تو یہ کہ ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے اور دوسرے کی آنکھ کے تنکے تلاش نہ کرے۔تو جب روزوں میں اس طرح اپنے جائزے لے رہے ہوں گے، کان، آنکھ، زبان، ہاتھ سے دوسرے کو نہ صرف محفوظ رکھ رہے ہوں گے بلکہ اس کی مدد کر رہے ہوں گے تو پھر روزے تقوے میں بڑھانے والے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بے انتہا اجر پانے والے ہوں گے۔پس اس لحاظ سے بھی ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے۔اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔(بخاری ، کتاب الایمان، باب صوم رمضان احتساباً من الايمان تو اس بات کو اس حدیث میں مزید کھول دیا کہ صرف روزے رکھنا کافی نہیں ہے۔بلکہ روزے ان تمام لوازمات کے ساتھ رکھنے ضروری ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اپنے روزوں کے معیار کو دیکھنا اور تقویٰ کی طرف قدم بڑھنے کا تبھی پتہ چلے گا جب اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے۔دوسرے کے عیب نہیں تلاش کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے عیب اور کمزوریاں تلاش کر رہے ہوں گے۔یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ آج میں نے کتنی نیکیاں کی ہیں یا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور کتنی برائیاں ترک کی ہیں، کتنی برائیاں چھوڑی ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے : ” ہمیں اس طرح جائزہ لینا چاہئے کہ ہماری صبحیں اور ہماری راتیں ہماری نیکیوں کی گواہ ہونی چاہئیں۔آپ فرماتے ہیں