خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 595
خطبات مسرور جلد سوم 595 خطبه جمعه 7 /اکتوبر 2005ء فیضیاب کرتے ہوئے ہمیشہ تقویٰ پر چلنے اور تقویٰ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔جب ہم اس طرح دعا کریں گے اور اس طرح اپنے جائزے لے رہے ہوں گے تو ان نیکیوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔بہت سی برائیاں بھی چھوڑنی ہوں گی جن کے ترک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے۔ورنہ تو ہمارے یہ روزے، روزے نہیں کہلا سکتے۔یہ صرف فاقے ہوں گے۔ایک بھوک ہوگی کہ صبح سے شام تک نہ کھایا ، نہ پیا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوں کا بھی پورا ہو گا جب ہم ان حکموں پر بھی عمل کریں گے اور نیکیوں میں بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔اور رمضان میں تو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کے کرنے کی وجہ سے عام حالات کی نسبت ان کا کئی گنا بڑھا کر اجر دیتا ہے بلکہ بے حساب دیتا ہے۔پس یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کی جزا ہوں۔یہ اس لئے ہے کہ بندہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو تمام جائز چیزوں سے روکتا ہے۔جو نہ کرنے والی ہیں ان سے تو رُکنا ہی ہے، جائز چیزوں سے بھی رکھتا ہے۔نیکیوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔برائیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔اپنی عبادتوں کے معیار بڑھاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے لئے ، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلتے ہوئے ، پہلے بندہ کو ہی کوشش کرنی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہلی ذمہ داری بندہ کی ہی لگائی ہے کہ بندہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو پھر میں اس کی طرف دو ہاتھ آؤں گا۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف چل کر جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں دوڑ کر اس کی طرف آؤں گا۔پس ایک مومن کو ہر وقت یہ فکر رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنے پیار کرنے والے خدا کی طرف جاؤں تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ رمضان میں عام دنوں سے زیادہ دوڑ کر آتا ہے اور اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رمضان میں ان