خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد سوم 53 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء رہے ہیں۔ساڑھے چار ہزار کے قریب مریضوں کا علاج ہو چکا ہے اور تقریباً ساڑھے تین ہزار ایسے لوگ جن کو کھانے پینے کی ضرورت تھی ان کو خوراک مہیا ہوتی ہے اور ہیومینٹی فرسٹ (Humanity First) کے ذریعے سے تقریباً سات لاکھ اور کچھ یو۔کے کی جماعت نے دیا۔تو آٹھ لاکھ ڈالر سے اوپر۔ان کا خیال ہے کہ ہم کم از کم ایک ملین ڈالر پیش کریں ، اس خدمت خلق کے لئے خرچ کریں۔اس کے علاوہ دنیا کی جماعتوں میں بھی ہر ملک میں اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے وہاں کے ان ملکوں کے سفارت خانوں میں مدد کے چیک جماعت کی طرف سے دیئے ہیں۔گو نقصان کی نسبت ہماری جو رقم ہے وہ بہت تھوڑی ہے اور اس طرح با وجود خواہش ہونے کے ہم ہر ایک کی خدمت کر بھی نہیں سکتے۔لیکن مستقل مزاجی سے کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔یہاں سے سری لنکا بھی ڈاکٹروں کا وفد بھجوایا گیا تھا۔اس کی بھی آپ نے رپورٹ سن لی ہوگی اور یہ بھی روزانہ خدمت کرتے رہے۔پھر کچھ مچھیرے تھے جن کی کشتیاں تباہ ہو گئی تھیں۔ان کشتیوں کی مرمت کی۔پھر انڈونیشیا میں امریکہ اور یو کے، دونوں اس خدمت کا فرض سرانجام دے رہے ہیں۔اور یہاں ایک جگہ Lamno سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔اور یہاں اتنی اونچی لہریں آئی ہیں کہ تین تین منزلہ مکانوں کی چھتوں پر کشتیاں اور جہاز جا کے کھڑے ہو گئے۔اور میل ہا میل تک سمندری لہروں نے انسانی آبادی کا نام و نشان مٹا دیا۔صرف جماعت احمدیہ ہے جس نے یہاں متاثرین کے لئے خوراک کی صورت مہیا کی ہے۔اور کوئی بھی تنظیم یہاں تک ابھی خدمت کے لئے نہیں پہنچی۔پھر Lambaro میں یہاں بھی آٹھ سو سے ہزار افراد تک بچے ہوئے لوگوں کی روزانہ خدمت چالیس خدام کر رہے ہیں۔تین وقت کا کھانا ان کو مہیا ہوتا ہے۔اب انڈو نیشیا کی جماعت کا پلان یہ بھی ہے، ان کو اس بات کی اجازت بھی دے دی ہے کہ آئندہ دو ماہ تک جب تک وہ سیٹل نہیں ہو جاتے وہاں ان لوگوں کے لئے جو بچے ہیں خوراک کا انتظام ہوتا رہے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس آبادی میں دوسرے تمام ادارے ہیومینٹی فرسٹ کے تحت کام کر رہے ہیں۔امریکہ نے وہاں پچاس واٹر پمپ لگانے کا وعدہ کیا ہے کیونکہ وہاں