خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 584
خطبات مسرور جلد سوم 584 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء رہے ہیں۔اور جو خرچ اب تک ہو چکا ہے وہ اس قدر ہے کہ اگر آپ اس کو بیچیں تو وہ قیمت نہیں مل سکتی۔اس لئے یہ محاورہ ہے ناں کہ نہ نگلے بنے نہ اُگلے بنے۔یہ وہی ہو رہا ہے۔لیکن مجھے یقین ہے اور جماعت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جماعت کے افراد اور جماعت نے جب بھی ایک منصوبے کے تحت ایک ہو کر ، ایک عزم کے ساتھ کسی کام کو شروع کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر اسے انجام تک پہنچایا ہے۔اگر آپ بھی اب اس کام کو پختہ ارادے سے شروع کریں تو یہ مسجد یقیناً بن سکتی ہے۔میں نے آپ میں سے مردوں، عورتوں، بچوں ، نوجوانوں کی اکثریت کے چہرے پر اخلاص و وفا کے جذبات دیکھے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے اخلاص و وفا میں کمی ہے یا کسی سے بھی کم ہیں۔بعض ذاتی کمزوریاں ہیں اُن کو دور کریں۔ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھیں۔مضبوط ارادہ کریں تو اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر آپ کی مدد فر مائے گا۔اور اپنے وعدوں کے مطابق ایسے ذریعوں سے آپ کے رزق کے اور آپ کے کاموں کی تکمیل کے اور آپ کے اس وعدے کو پورا کرنے کے سامان پیدا فرمائے گا کہ جس کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔جو کمزور ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔اُن کو بھی بتائیں کہ خدا کا گھر بنانے کے کیا فوائد ہیں۔جو قربانیاں کر رہے ہیں وہ پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے عہدوں کی نئے سرے سے تجدید کرتے ہوئے ، نئے سرے سے پلاننگ کریں، سب سر جوڑ کر بیٹھیں ، ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کریں۔آج جب دنیا میں ہر جگہ مسجدوں کی تعمیر ہو رہی ہے، ہر جگہ جماعت کی ایک خاص توجہ پیدا ہوئی ہے۔آج جب دشمن جہاں اس کا زور چلتا ہے ہماری مسجدوں کو نقصان پہنچانے اور ان کو بند کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ان ملکوں میں جہاں امن ہے جہاں آپ کے مالی حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں ، جہاں خدا کے نام کو ہر شخص تک پہنچانے کی انتہائی ضرورت ہے، آج جہاں اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اسلام کے نور کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔اگر بہتر حالات میسر ہونے کے بعد بھی آپ نے خدا کے اس گھر اور اس کے روشن میناروں کی تعمیر نہ کی تو یہ ناشکری ہوگی۔یاد رکھیں یہ آخری موقع ہے اگر اس دفعہ بھی اور اجازت