خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 582

خطبات مسرور جلد سوم 582 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء روپوں سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔اور یہ واقعات ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔آج بھی ایسی عورتیں ہیں جوقربانیوں کی اعلیٰ مثال قائم کرتی ہیں۔ایک خاتون نے اپنا بہت سا زیور خلافت رابعہ کی مختلف تحریکات میں دے دیا تھا۔میری طرف سے بھی جب بعض تحریکات ہوئیں تو پھر کچھ زیورات جو باقی بچے ہوئے تھے وہ دے دیئے تھے۔پھر ان کو کچھ زیورات تحفہ ملے یا دوبارہ بنائے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دیئے۔اسی طرح مردوں میں سے بھی بہت قربانیاں کرنے والے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی توفیق سے بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔تو قربانی کے یہ معیار آج اللہ تعالیٰ نے صرف جماعت احمدیہ میں ہی قائم فرمائے ہوئے ہیں۔اور صرف یہی نہیں ہے کہ کسی پاکستانی یا ہندوستانی کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ باپ دادا صحابی تھے اس لئے ہماری نسلوں میں بھی قربانی کے وہ معیار چل رہے ہیں۔بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ، ہر قوم میں ، قربانی کی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔افریقہ میں وہاں کے غریب لوگ بھی آج اپنی مرغیاں یا مرغیوں کے انڈے یا ایک آدھ بکری جو ان کے پاس ہوتی ہے وہ لے کر آتے ہیں کہ پیسے تو نقد ہمارے پاس ہیں نہیں ، یہ ہمارے چندے میں کاٹ لیں۔پھر افریقنوں میں ایسے خوشحال مرد اور عورتیں بھی ہیں جنہوں نے بڑی بڑی مالی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں۔مسجدوں کے لئے پلاٹ خریدے۔مسجد میں بنائیں اور کافی بڑی رقم سے بڑی بڑی مسجد میں بنائیں۔ابھی اسی سال افریقہ کے ایک ملک میں ایک عورت نے ایک بڑی خوبصورت مسجد بنا کر جماعت کو پیش کی ہے۔تو یہ انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد ان لوگوں میں آیا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے، ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جائیں تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیاری جماعت نے یہ نمونے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی قائم نہیں کئے بلکہ آج بھی یہ نمونے قائم ہیں۔اور یقیناً یہ ان دعاؤں کے پھل ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔جب بھی