خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 576 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 576

خطبات مسرور جلد سوم 576 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ کر کے لوٹاتا ہے۔تو یہ قرضہ حسنہ کیا ہے؟ یہ تو ایک تجارت ہے اور تجارت بھی ایسی جس میں سوائے فائدے کے کچھ ہے ہی نہیں۔اس لئے کسی بھی قربانی کرنے والے کو کبھی یہ خیال نہ آئے کہ میں نے خدا پر کوئی احسان کیا ہے۔اور صرف مالی لحاظ سے یا دنیاوی لحاظ سے ایسے قربانی کرنے والوں کے حالات اللہ تعالیٰ ٹھیک نہیں کرتا بلکہ فرمایا کہ تمہارے جود نیاوی فائدے ہونے ہیں وہ تو ہونے ہیں ہمیں گناہ بھی بخش دوں گا۔انسان گناہوں کا پتلا ہے ایک دن میں کئی کئی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں، کئی کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ایک تو ان قربانیوں کی وجہ سے ان گناہوں سے بچے رہو گے، نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے گی۔دوسرے جو غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہو گئی ہیں، اللہ کی راہ میں قربانی کر کے ان کی بخشش کے سامان بھی پیدا کر رہے ہو گے۔پس اس طرف توجہ کرو اور اللہ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو۔اللہ تعالیٰ کس طرح ان قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے، اس بارے میں ایک حدیث سے روشنی پڑتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صبح دوفرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاک کر اور اس کا مال و متاع بر باد کر دے۔(بخارى كتاب الزكوة باب قول الله فاما من اعطى و اتقى۔۔۔۔۔۔۔تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے لئے فرشتے بھی دعا کر رہے ہوتے ہیں۔یہ فرشتوں کی دعا کا انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا ہے کہ وہ قربانی کرنے والوں کی قدر کرتا ہے۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے فضل نازل کرنے کے طریقے ہیں۔اس حدیث نے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھا دیا کہ ایک طرف تو خدا تعالی مالی قربانی کرنے والوں کی قدر کرتا ہے، ان کی بخشش کے سامان پیدا فرماتا ہے، ان کے مال میں اضافہ کرتا ہے، ان کے نفوس میں برکت ڈالتا ہے۔دوسری طرف بخیل اور کنجوس اور دنیا داروں کو نہ صرف ان برکات سے محروم کر رہا ہوتا ہے بلکہ ایسے مواقع بھی آجاتے ہیں کہ جو ان کے پاس ہے اس دنیا میں بھی اس سے محروم کر دیتا ہے۔اور آخرت