خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 569
خطبات مسرور جلد سوم 569 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔قرآن شریف کے تمیں سپارے ہیں۔اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جاویں اور اس پر پورا عملدرآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے ( یعنی اس کی چابی اور طاقت دعا ہے ) دعا کو مضبوطی سے پکڑ لو۔میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالیٰ ساری مشکلات کو آسان کر دے گا“۔(ملفوظات جلد نمبر 4 صفحه 149 جدید ایڈیشن) اللہ کرے کہ ہم جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے منسوب کرتے ہیں۔آپ کی خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بھی بن جائیں اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے والے بھی ہوں۔اس کے حکموں پر عمل کرنے والے بھی ہوں اور جہاں ہماری سمجھ میں اور ہمارے عمل میں روک پیدا ہو وہاں خدا کے آگے جھکیں اس کے حقیقی عابد بنتے ہوئے اس سے راہنمائی چاہیں۔اس سے عرض کریں کہ اے خدا تو نے ہی کہا ہے کہ خالص ہو کر میرے آگے جھکو تو میں راہنمائی کروں گا اور ہدایت دوں گا۔ہم ہدایت کے طلبگار ہیں۔جب اس طرح دعائیں ہوں گی تو یقیناً اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔یہ جلسے کے دن جن میں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک روحانی ماحول میسر فرمایا ہے ان میں اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی بڑھائیں۔حقیقی تقویٰ کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کریں ہم حاصل کرنے کی کوشش کریں، سمجھنے کی کوشش کریں۔ان جلسے کے دنوں میں مختلف موضوعات پر تقاریر ہوں گی۔جن کا محور تو وہی ایک ہوتا ہے کہ تقویٰ۔ان سے بھی فائدہ اٹھا ئیں اور اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں کو بھی اس امر پر قائم کریں کہ ہم نے ان تین دنوں میں روحانیت میں ترقی کرنے