خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 567

خطبات مسرور جلد سوم 567 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء تو ایسے لوگوں کو قرآن ہدایت نہیں دیتا۔ہدایت بھی تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے اور عبادت کرنے کا بھی اس لئے حکم دیا تا کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لئے عبادت کرے اور تقویٰ کے حصول کے لئے ہی قرآن کریم پڑھے اور پڑھائے ، قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والا بنے۔اب مثلاً قرآن کریم کا ایک حکم آپس میں محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنا ہے اور دوسروں کو اچھی بات کہنا ہے، نرمی اور پیار سے بات کرنا ہے۔چھتی ہوئی اور کڑوی بات نہ کرنے کا حکم ہے جس سے دوسروں کے جذبات کو تکلیف ہو۔جیسا کہ فرمایا ہے قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا یعنی لوگوں سے نرمی اور پیار سے بات کیا کرو۔ایسے طریقے سے جن سے کسی کے جذبات کو تکلیف نہ پہنچے۔معاشرے میں اکثر جھگڑے زبان کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ اس عضو کو سنبھال لو تو جہنم سے بچ جاؤ گے۔یہ بھی جہنم میں لے جانے کا ایک ذریعہ ہے۔بعض لوگ بڑے نرم انداز میں باتیں کر دیتے ہیں جو کسی کی برائی ظاہر کر دے۔یا بڑے آرام سے نرم الفاظ میں کوئی چھتی ہوئی بات کر دی۔اور کہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو بڑے آرام سے بات کی تھی۔دوسرا شخص ہی بھڑک گیا ہے۔اس کو پتہ نہیں کیا تکلیف ہوئی۔تو یہ چالاکیاں بھی کسی کے سامنے کہو گے تو شاید دنیا کے فیصلہ کرنے والوں کی نظر سے تو بچالیں گی لیکن اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اس کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔پس ایک احمدی کو باریکی میں جا کر اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر آپ یہ کر لیں گے تو ان ملکوں میں بھی اور دنیا میں ہر جگہ جہاں احمدیوں کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہوتے ہیں، رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، دلوں میں بغض اور کینے پلتے بڑھتے ہیں ان کی اصلاح ہو جائے گی۔پس اپنی اصلاح کے لئے قرآن کریم کو غور سے پڑھیں اور اس کے احکامات کو زندگیوں کا حصہ بنائیں ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انذار کے نیچے بھی آسکتے ہیں۔ایک روایت ہے حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوفناک چیز کا ذکر کر کے فرمایا کہ ایسا اس وقت ہوگا جب دین کا علم مٹ جائے گا۔میں