خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 562
خطبات مسرور جلد سوم 562 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء کوئی فائدہ ہو۔اور تبھی تو اس کو پالنے والا اس کی خبر گیری کرے گا ) لیکن اگر اس درخت کی مانند ہو گا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پہنتے رکھتا ہے کہ لوگ سایہ میں آ بیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خرید لوں، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے ( جو دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس کا ہی درد ہے ) تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لئے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حلم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھا وے تو اسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔اس لئے دل کا رجوع تام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 221 222۔جدید ایڈیشن) پس انسان کی پیدائش کا یہ مقصد ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو اور یہ سب ہماری اپنی بہتری کے لئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے۔اس نے تو ایک مقصد ہمیں بتایا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو میرا قرب پاؤ گے ورنہ شیطان کی گود میں گر جاؤ گے۔اور جو شیطان کی گود میں گر جائے وہ نہ صرف خدا تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے بلکہ کسی نہ کسی رنگ میں معاشرے میں فساد پھیلانے کا بھی باعث بنتا ہے۔پس اللہ کی عبادت بندوں کے فائدے کے لئے ہے ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبّى لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ﴾ (الفرقان : 78) یعنی ان کو بتا دو کہ میرا رب