خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 561 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 561

خطبات مسرور جلد سوم 561 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء جائزے لے گا تو انشاء اللہ عبادتوں کے معیار میں یقیناً بہتری پیدا ہوگی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: غرض کہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا گزارا تو ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگا نہ رہے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے ان کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ کیا خدا کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اس کا چل سکتا ہے؟ اور کوئی منفعت دنیا کی وہ حاصل کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔دین ہو یا نی ہر ایک امر میں اسے خدا کی ذات کی بڑی ضرورت ہے اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے۔جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھو یا نہ۔وہ فرماتا ہے ﴿قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ﴾ (الفرقان : 78 ) کہ اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کار آمد ثابت کرے گا اسی قدر اس کے انعامات کو حاصل کرے گا۔دیکھو کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو مگر جب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا، نہ گاڑی میں بجھتے گا، نہ زراعت کرے گا، نہ کنوئیں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا“۔( یہاں کے پلے بڑھوں کو شاید تصور نہ ہو، یہاں یہ پرانی چیزیں شاید میوزیم میں پڑی ہوں۔ہمارے پاکستان ہندوستان وغیرہ میں بیل ابھی بھی پالے جاتے ہیں اور ان کو بڑی توجہ سے پالا جاتا ہے کا شتکاری کے لئے جس سے ہل چلایا جاتا ہے۔ٹریکٹر اور مشینری وغیرہ تو بہت سے لوگوں کے پاس بہت کم ہے۔تو فرمایا کہ جب ان کاموں کے لئے بیل پالا جائے گا اگر وہ کام کے قابل نہیں رہا تو سوائے ذبح کرنے کے اور کچھ نہیں ہو گا اور ) ایک نہ ایک دن مالک اسے قصاب کے حوالے کر دے گا۔ایسا ہی جو انسان خدا کی راہ میں مفید ثابت نہ ہو گا تو خدا اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہئے تا کہ مالک بھی خبر گیری کرتا رہے (ایسا درخت بناؤ جس کو پھل لگتے ہوں جس سے سایہ ملتا ہو۔جس کا