خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 550
خطبات مسرور جلد سوم 550 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء لیکن ایمان کے اعلیٰ معیار تمہیں حاصل نہیں ہوئے۔ابھی بہت گنجائش ہے۔پکے مومن تب کہلاؤ گے جب ایمان میں ترقی کرو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے پہلے دن بھی ان بدوؤں پر بہت اثر ڈالا لیکن تب بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابھی بہت گنجائش ہے۔تو آجکل تو اور بھی زیادہ گنجائش ہے جیسا کہ اللہ میاں قرآن کریم میں اعراب کو مخاطب کر کے فرماتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَاوَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات: 15) بادیہ نشین یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔تو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں پوری طرح داخل نہیں ہوا۔پس نئے احمدی ہوں یا پرانے ، بوڑھے ہوں یا نو جوان، یا درکھیں کہ کامل مومن صرف مان لینے سے نہیں بن جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر بھی عمل کرنا ہوگا کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات ﴾ (البقرة: 149) پس یہ نیکیوں میں آگے بڑھنا ہی ہے جو ایمان میں مضبوطی پیدا کرتا ہے اور جب ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے تو پھر ایک مومن مال اور جان کی قربانی میں بھی دریغ نہیں کرتا۔اور یہ طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس کا عبد بننے سے ہی حاصل ہوتا ہے، اس کا بندہ بننے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیچ کے ہے اور پھر لغو باتوں کے چھوڑنے سے ایمان اپنا نرم نرم سبزہ نکالتا ہے اور پھر اپنا مال بطور ز کوۃ دینے سے ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں جو اس کو کسی قدر مضبوط کرتی ہیں اور پھر شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے سے ان ٹہنیوں میں خوب مضبوطی اور سختی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر اپنے عہد اور امانتوں کی تمام شاخوں کی محافظت کرنے سے درخت ایمان کا اپنے مضبوط تنا پر کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر پھل لانے کے وقت ایک اور طاقت کا فیضان اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس طاقت سے پہلے نہ درخت کو پھل لگ سکتا ہے نہ پھول“۔(ضمیمه براہین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 209 حاشيه |