خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد سوم 547 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء حدیث میں آتا ہے کہ اگر انسان ایک جمعہ نہیں پڑھتا تو دل کا ایک حصہ سیاہ ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ جمعے چھوڑتے چلے جانے سے پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔تو جمعوں کی اہمیت، جمعہ پڑھنے کی اہمیت ہر احمدی کے دل میں ہونی چاہئے۔اور کوئی پروگرام کوئی کھیل کود، کوئی کام یا کاروبار جمعہ کی نماز کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونا چاہیئے۔اس دن کے بابرکت ہونے کا، دعاؤں کی قبولیت کا اندازہ آپ اس حدیث سے کر سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ جب مسلمان کو اس میں ایسا وقت ملتا ہے اور جب وہ کھڑا ہو کے نماز پڑھ رہا ہو، تو جو دعا وہ کرے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے۔آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ وہ چھوٹا سا وقت ہوتا ہے، بہت مختصر وقت (مسلم ، کتاب الجمعة باب في الساعة التي في يوم الجمعة) ہوتا ہے۔اس لئے جو لوگ مختصر وقت کے لئے ، آخری وقت میں جب خطبہ ختم ہونے والا ہو، جمعہ پڑھنے آتے ہیں کہ جلدی جلدی نماز سے فارغ ہو کر اپنے کام پر چلے جائیں گے یا اپنی کھیل کو دکو چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے بے دلی سے مسجد میں آتے ہیں کہ جلدی جلدی فارغ ہو کر چلے جائیں گے۔تو ان کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو خطبہ ہے یہ بھی نماز کا حصہ ہے۔اس لئے جمعہ کی نماز کی دورکعتیں کی گئی ہیں۔ان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نصیحت یاد رکھنی چاہئے۔اس خوشخبری سے فائدہ اٹھانا چاہئے کہ دعاؤں کا وقت میسر آتا ہے اور کس کو دعاؤں کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس لئے جمعہ کی نماز پر بڑی توجہ سے، پابندی سے آنا چاہئے۔اس پابندی سے آئیں گے، اس کوشش سے آئیں گے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔آپ کی دعائیں بھی قبولیت کا شرف پارہی ہوں گی۔اور دنیاوی فوائد بھی آپ کو حاصل ہورہے ہوں گے۔پس ہر احمدی کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جو فرائض اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ان کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔آج کل نفس کا جہاد یہی ہے کہ دنیاوی فوائد بھی اگر ہورہے ہوں تو یا درکھو کہ یہ عارضی فوائد ہیں اس لئے دین کی خاطر ان عارضی فوائد کی پرواہ نہیں کرنی۔پھر نفس کے جہاد میں تمام قسم کی