خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 534 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 534

خطبات مسرور جلد سوم 534 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء عزیز کے گھر چلی گئی تھی ، رات میری بڑے آرام سے گزری ہے، پتہ نہیں تمہاری رات یہاں کس طرح گزرسکی تو اس نو مبائع نے کہا کہ جو نظارے میں نے دیکھے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تھے اپنے فضلوں سے نوازا ہے اور میری تسکین کے سامان پیدا فرمائے ہیں وہ بھلا تمہیں کہاں حاصل ہوئے۔تو دیکھیں نیک نیتی سے جلسے میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالی کس طرح اپنے فضلوں کی بارش کے نظارے دکھاتا ہے جو ایمان میں مضبوطی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔تو یہ فضل صرف اس ایک عورت یا صرف اس ایک خاندان کے لئے مخصوص نہیں تھا بلکہ اس سارے ماحول کے لئے تھا۔ان سب شاملین کے لئے یہ فضل تھے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعائیں کی ہیں۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ: اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے“۔(مجموعه اشتهارات جلد اوّل صفحه 281 جدید ایڈیشن) پس تائید حق کے یہ نظارے اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو ایک خاص شکل میں دکھا دیئے۔بعضوں کو وہ دکھاتا ہے اور بعضوں کے دل اس تسکین کی وجہ سے اس کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں کہ ہاں واقعی یہ جلسہ ایک خاص جلسہ ہے جس میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور قدرتوں کے نظارے دیکھے ہیں۔لیکن یاد رکھیں ہر امر اس کے جو لوازمات ہیں ان کے ساتھ مشروط ہے۔آپ نے جلسے کے دنوں میں مستقل مزاجی کے ساتھ ، استقلال کے ساتھ جو تبدیلیاں پیدا کی ہیں یا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں سے آتے ہی اگر آپ ان کو بھول گئے ہیں کہ جلسے کے دن تو گزر گئے۔اب یاد نہیں کہ ایک احمدی کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔بعد میں اس طرف توجہ نہیں رہی کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں کیا مستقل تبدیلیاں لانی ہیں تو ان تین دنوں کے جلسے میں آپ کی شمولیت کوئی فائدہ